حدیث نمبر: 2744
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ حَدِيثًا عَنْ نَفْسِهِ ، وَحَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ ، فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ، ثُمَّ قَالَ : أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ ، فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ ، فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ، فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ " وَزَادِهِ ،

حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا کیونکہ بیمار تھے تو انھوں نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ یقیناً" اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے، اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہلاکت خیز جنگل میں ہے اس کے پاس اس کی سواری ہے، جس پر اس کے کھانے پینے کی اشیاء ہیں، وہ سو کر بیدار ہوتا ہے تو دیکھتا ہے، اس کی سواری جا چکی ہے، وہ اس کو تلاش کرتا ہے، حتی کہ اس کو پیاس لگ جاتی ہے تو وہ کہتا ہے میں واپس اس جگہ جاتا ہوں جہاں میں پہلے تھا اور سوجاتا ہوں۔حتی کہ فوت ہو جاؤں وہ اپنی کلائی پر مرنے کے لیے سر رکھ کر سوجاتا ہے پھر وہ بیدار ہوتا ہے اور اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہوتی ہے اور اس پر اس کا زادراہ اور اس کاکھانا اور مشروب بھی موجود ہے تو اللہ کو اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی اس کو اپنی سواری اور زادراہ ملنے سے ہوئی ہے۔"

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مِنْ رَجُلٍ بِدَاوِيَّةٍ مِنَ الْأَرْضِ ،

قطبہ بن عبدالعزیز نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”اس آدمی کی نسبت (زیادہ خوش ہوتا ہے) جو زمین کے سنسان بے آب و گیاہ صحرا میں ہو۔“ دویۃ کے بجائے داویۃ کا لفظ بولا، (معنی ایک ہی ہے۔)

وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ ، فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .

حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں مجھے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو حدیثیں سنائیں، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری اپنی طرف سے، انھوں نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے زیادہ خوش ہوتا ہے،"آگے مذکورہ بالا حدیث ہے امام مسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث بیان کی ہے لیکن دوسری حدیث جو عبداللہ کا قول ہے اس کو چھوڑ دیا لیکن امام بخاری وہ حدیث بھی بیان کی ہے۔ کہ وہ فرماتے ہیں مومن بندہ سے گناہ سر زد ہو جا تا ہے وہ اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے دامن میں بیٹھا ہے اور ڈر رہا ہے پہاڑ اس پر گر نہ جائے اور فاجر اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے کہ مکھی اس کی ناک پر بیٹھ گئی ہے تو وہ اس کو ہاتھ کے اشارے سے اڑادیتا ہے(کتاب الدعوات حدیث نمبر6308۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التوبة / حدیث: 2744
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3538 | سنن ابن ماجه: 4247 | صحيفه همام بن منبه: 80

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے حاضر ہوا کیونکہ بیمار تھے تو انھوں نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں ایک اپنی طرف سے اور ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے بتایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ یقیناً" اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ سے، اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہلاکت خیز جنگل میں ہے اس کے پاس اس کی سواری ہے، جس پر اس کے کھانے پینے کی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6955]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
دوية اور داوية: جنگل، بیابان، بنجرعلاقہ، (2)
مهلكة: وہ جگہ جہاں ہلاکت اور تباہی کا خطرہ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6955 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3538 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´توبہ و استغفار کی فضیلت اور بندوں پر اللہ کی رحمتوں کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ کوئی شخص اپنی کھوئی ہوئی چیز (خاص طور سے گمشدہ سواری کی اونٹنی پا کر خوش ہوتا ہے)۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3538]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یہ بندوں کے ساتھ اللہ کے کمال رحمت کی دلیل ہے، اسی کمالِ رحمت کے سبب اللہ بندوں کی گمراہی، یا نافرمانی کی روش سے ازحد ناخوش ہوتا ہے، اور توبہ کر لینے پر ازحد خوش ہوتا ہے کہ اب بندہ میری رحمت کا مستحق ہو گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3538 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4247 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´توبہ کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " بیشک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا کہ تم اپنی گمشدہ چیز پانے سے خوش ہوتے ہو۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4247]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ گناہ سے توبہ کرتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوجاتا ہے۔

(2)
بندے کو جب احساس ہوجائے کہ اس نے گناہ کیا ہے۔
خواہ وہ چھوٹا گناہ ہو یا بڑا۔
براہ راست اللہ کے آگے توبہ کرے۔
یعنی اپنی غلطی کا اعتراف کرکے آئندہ کے لئے یہ عزم اور وعدہ کرے کہ وہ اس گناہ سے بچ کررہے گا۔

(3)
توبہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔
اس میں کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہیں البتہ کسی نیک آدمی کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے نیکی کا عزم کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے۔
کہ پہلے انسان اس عالم کی شرم سے گناہ سے بچتا ہے۔
پھر براہ راست اللہ کی شرم سے گناہ سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔
تاہم یہ ضروری نہیں تنہائی میں توبہ کرکے اللہ سے استقامت کی دعا کرے تو کافی ہے۔

(4 جس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔
اس کے ارتکاب کی صورت میں وہ حق ادا کرنا یا صاحب حق سے معاف کروانا ضروری ہے۔
ورنہ توبہ مکمل نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4247 سے ماخوذ ہے۔