صحيح مسلم
كتاب الرقاق— کتاب الرقاق
باب قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ ، وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَتَمَشَّوْنَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ تَعَالَى بِهَا لَعَلَّ اللَّهَ يَفْرُجُهَا عَنْكُمْ ، فَقَالَ : أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَامْرَأَتِي وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ ، فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا ، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ ، فَفَرَجَ اللَّهُ مِنْهَا فُرْجَةً فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ ، وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَتْ لِيَ ابْنَةُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ ، وَطَلَبْتُ إِلَيْهَا نَفْسَهَا ، فَأَبَتْ حَتَّى آتِيَهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ ، فَتَعِبْتُ حَتَّى جَمَعْتُ مِائَةَ دِينَارٍ ، فَجِئْتُهَا بِهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا ، قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ ، فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً فَفَرَجَ لَهُمْ ، وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّهُمَّ إِنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ ، قَالَ : أَعْطِنِي حَقِّي ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَقَهُ فَرَغِبَ عَنْهُ ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرِعَاءَهَا فَجَاءَنِي ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَظْلِمْنِي حَقِّي ، قُلْتُ : اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرِعَائِهَا فَخُذْهَا ، فَقَالَ : اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي ، فَقُلْتُ : إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ خُذْ ذَلِكَ الْبَقَرَ وَرِعَاءَهَا ، فَأَخَذَهُ فَذَهَبَ بِهِ ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ مَا بَقِيَ " ،حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:" جبکہ تین آدمی چلے تھے، انھیں بارش نے آلیا تو انھوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لی ان کے غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آپڑی اور وہ ان پر بند ہوگئی، چنانچہ انھو ں نے ایک دوسرے سے کہا، اپنے ان نیک اچھے اعمال پر نظر ڈالو، جو خاص طور پر تم نے اللہ کی رضا کے لیے کیے ہیں۔ سو ان میں سے ایک نے کہا، اے اللہ! میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے میں ان کی خاطر بکریاں چرایا کرتا تھا اور جب میں ان کے پاس بکریاں واپس لاتا،دودھ دوہتا اور سب سے پہلے ماں باپ کو پلاتا، اپنی اولاد سے بھی پہلے انہیں پلاتا اور صورت حال یہ پیدا ہوئی کہ ایک دن مجھے چراگاہ کے درخت دور لے گئے یعنی بکریوں کو چراتا، چراتا میں دور نکل گیا سو میں شام تک نہ آسکا، جب گھر پہنچا تو دیکھا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں۔ سو میں نے حسب معمول دودھ دوہیا اور دودھ لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا مجھے ناپسند گزرا کہ میں ان کو نیند سے بیدار کروں اور یہ بھی مجھے برا معلوم ہوا کہ ماں باپ سے پہلے بچوں کو دودھ پلا دوں، حالانکہ بچے میرے پاؤں کے پاس بلبلا رہے تھےچلا رہے تھے،سو طلوع فجر تک میری اور ان کی یہی حالت رہی یعنی میں دودھ لے کر کھڑا رہا، بچے روتے رہے اور ماں باپ سوئے رہے۔ اے اللہ اگر توجانتا ہے میں نے یہ کام محض تیری رضا اور خوشنودی کے لیے کیا تھا توتو اس پتھر کو اتنا کھول دے کہ ہم اس سے آسمان کو دیکھنے لگیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پتھر کو اتنا ہٹا دیا کہ انھیں آسمان نظر آنے لگا اور دوسرے شخص نے کہا: اے اللہ! صورت حال یہ ہے کہ میرے چچا کی ایک بیٹی تھی، میں اس سے اس قدر انتہائی محبت رکھتا تھا جو مردوں کو زیادہ سے زیادہ عورتوں کے ساتھ ہو سکتی ہے میں نے اس سے اپنے آپ کو پیش کرنے کا مطالبہ کیا (میں نے اس سے بدکاری کی خواہش کی)اس نے کہا:جب تک اسے سواشرفی نہ دوگے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تو میں نے بھر پور کوشش کر کے سواشرفیاں جمع کر لیں اور ان کو لے کر اس کے پاس آگیا پھر جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ (تاکہ اپنا کام کروں) اس نے کہا، اے اللہ کے بندے،اللہ سے ڈرا اور مہر کو جائز طریقہ سے کھول تو میں اس سے کھڑا ہو گیا۔(اپنا ارادہ ترک کر دیا) سواگر تو جانتا ہے میں نے یہ کام محض تیری رضا کی خاطر کیا تھا تو ہمارے لیے اس سے کشادگی پیدا کر دے تو اللہ نے پتھر کو اور ہٹا دیا تیسرے شخص نے کہا:اے اللہ! میں نے ایک فرق چاولوں (تین صاع) پر ایک شخص کو مزدور رکھا تھا جب اس نے اپنا کام ختم کر لیا تو کہا مجھے میرا حق (مزدودری) دو۔ چنانچہ میں نے اسے اس طے شدہ ایک فرق پیش کیا تو اس نے اس سے بے رغبتی اختیار کی پسند نہ کیا (اور چلا گیا چنانچہ میں ان چاولوں کو ہمیشہ کاشت کرتا رہا، حتی کہ میں نے ان (قیمت) سے گائیں اور ان کے چرواہے جمع کر لیے پھر وہ (عرصہ کے بعد) آیا اور کہا، اللہ سے ڈر اور میرا حق نہ مار میں نے کہا ان گائیوں اور ان کے چرواہوں کی طرف جاؤ اور ان کو لے لو تو اس نے کہا،اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر سو میں نے کہا، میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کرتا۔ وہ گائیاں اور ان کے چرواہے لے لو وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ سو اگر تو جانتا ہے، میں نے یہ کام تیری خوشنودی کی خاطر کیا تھا تو باقی پتھر کو بھی ہم سے ہٹا دے۔ چنانچہ اللہ نے باقی پتھر کو بھی ہٹا دیا۔"
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْبَجَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي , وَرَقَبَةُ بْنُ مَسْقَلَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَزَادُوا فِي حَدِيثِهِمْ ، وَخَرَجُوا يَمْشُونَ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ : يَتَمَاشَوْنَ إِلَّا عُبَيْدَ اللَّهِ ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ : وَخَرَجُوا وَلَمْ يَذْكُرْ بَعْدَهَا شَيْئًا ،موسیٰ بن عقبہ، عبیداللہ، فضیل، رقبہ بن مسقلہ اور صالح بن کیسان سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوضمرہ کی موسیٰ بن عقبہ سے روایت کردہ حدیث کے ہم معنی روایت کی اور انہوں نے ان کی حدیث میں (پیدل چلے جا رہے تھے کے ساتھ) ”اور وہ پیدل چلتے ہوئے نکلے“ کے الفاظ بڑھائے اور عبیداللہ کی روایت کو چھوڑ کر صالح کی حدیث میں ”وہ مل کر پیدل چلے“ کے الفاظ ہیں جبکہ ان (عبیداللہ) کی حدیث میں ”اور وہ نکلے“ کا لفظ ہے اور انہوں نے اس کے بعد (پیدل چلتے ہوئے وغیرہ) کا کچھ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ ابْنُ سَهْلٍ : حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " انْطَلَقَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَتَّى آوَاهُمُ الْمَبِيتُ إِلَى غَارٍ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : اللَّهُمَّ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ لَا أَغْبِقُ قَبْلَهُمَا أَهْلًا وَلَا مَالًا ، وَقَالَ : فَامْتَنَعَتْ مِنِّي حَتَّى أَلَمَّتْ بِهَا سَنَةٌ مِنَ السِّنِينَ ، فَجَاءَتْنِي فَأَعْطَيْتُهَا عِشْرِينَ وَمِائَةَ دِينَارٍ ، وَقَالَ : فَثَمَّرْتُ أَجْرَهُ حَتَّى كَثُرَتْ مِنْهُ الْأَمْوَالُ ، فَارْتَعَجَتْ ، وَقَالَ : فَخَرَجُوا مِنْ الْغَارِ يَمْشُونَ .سالم بن عبداللہ (بن عمر) نے مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص (کسی غرض سے) روانہ ہوئے، حتیٰ کہ رات گزارنے کی ضرورت انہیں ایک غار کی پناہ گاہ میں لے آئی۔“ پھر انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نافع کی روایت کے مطابق واقعہ بیان کیا مگر کہا: ”اے اللہ! میرے انتہائی بوڑھے والدین تھے، میں رات کے وقت ان دونوں سے پہلے نہ گھر والوں کو دودھ پلاتا تھا، نہ مال کو (اپنی ملکیت کے غلاموں یا مویشیوں کے ان بچوں کو جن کی اپنی مائیں نہ تھیں) دودھ پلاتا تھا۔“ اور (یہ بھی) کہا: ”(میری عم زاد) مجھ سے دور رہی یہاں تک کہ ایک قحط سالی کا شکار ہو گئی، وہ میرے پاس آئی تو میں نے اسے (سو کے بجائے جو اس نے مانگے تھے) ایک سو بیس دینار دیے۔“ اور (تیسرے شخص کے واقعے میں) اس نے کہا: ”میں نے اس کی اجرت کو (کاشتکاری اور تجارت کے ذریعے) خوب بار آور بنایا، یہاں تک کہ ایسا کرنے سے مال مویشی بہت بڑھ گئے اور پھیل گئے۔“ اور آخر میں کہا: ”تو وہ چلتے ہوئے غار سے باہر آ گئے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
سب سے اہم اور پہلی بات تو یہ ہے کہ ان تینوں افراد نے اپنے عمل صرف اللہ کی رضا جوئی کے لیے کیے تھے اور ان اعمال کی اس خصوصیت کی بنا پر، اللہ کے حضور پیش کیا تھا، جس سے اخلاص کی برکت و تاثیر اور قوت کا اظہار ہوتاہے، نیک اعمال کے وسیلہ سے دعا کرنا پسندیدہ ہے اور دعا کی قبولیت کا سبب ہے۔
(2)
ان تینوں عملوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ عمل اللہ کے حکم و مرضی کے مقابلہ میں اپنے نفس کو دبانے اور اس کی چاہت کو قربان کرنے کی اعلیٰ مثال ہیں، دیکھئے، پہلے شخص کا مجاہدہ نفس کس قدرشدید ہے کہ وہ دن بھر جانوروں کو جنگل میں چراتا ہے، شام کو دیر سے تھکا ہارا ہوا گھر پہنچتا ہے تو اس کا دل آرام کے لیے کس قدر بے قرار اور بے چین ہوگا، لیکن چونکہ ماں باپ دودھ پیے بغیر سو گئے تھے اور یہ اللہ کی رضا اس میں سمجھتا تھا کہ وہ ان کی نیند و آرام میں خلل اندازنہ ہو، جس وقت نیند سے خود ان کی آنکھ کھلے تو یہ ان کو دودھ پلائے، اس لیے یہ اپنے آرام اور راحت کو قربان کر کے ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا، حتی کہ اس طرح صبح ہو گئی، اور اس کے معصوم، پیارے پیارے بچے اس کے قدموں میں پڑے بھوک سے روتے چلاتے رہے، لیکن اس بوڑھے ماں باپ کے حق کو مقدم خیال کر کے اللہ ہی کی خوشنودی کے لیے یہ مجاہدہ بھی کیا کہ بوڑھے ماں باپ سے پہلے اپنے پیرے بچوں کو بھی دودھ نہ پلایا۔
(3)
ایک دوسرا شخص ہے، جو اپنی عم زاد کے عشق میں مبتلا ہے اور پردہ کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے، اس کے گھر اس کی کھلی آمدورفت ہے اور وہ شادی شدہ ہے اور اپنی گھریلو، مجبوریوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر، آخرکار، ایک معقول رقم طے کر کے، اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے اور وہ محنت و مزدوری کر کے اس کو رقم مہیا کر دیتا ہے اور اس کو زندگی کی سب سے بڑی تمنا پوری کرنے کا پوراپورا موقع مل جاتاہے اور کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی تو ٹھیک اس وقت وہ اللہ کی بندی، اسے اللہ کا خوف یاد دلاتی ہے اور اس کو احساس ہوجاتا ہے، یہ اس قدر مجبور اور بے بس ہوکر بھی اللہ سے ڈررہی ہے تو وہ اپنے نفس کی خواہش لب بام پہنچ کر پوری کیے بغیر اللہ سے ڈر کر اس کی رضا طلبی میں لگ جاتا ہے، ہر نفس رکھنے والا انسان اپنے طور پر اندازہ کر سکتا ہے، یہ کتنا سخت مجاہدہ ہے اور اللہ کی رضا کے مقابلے میں اپنی خواہش نفس کو قربان کرنے کی کتنی اعلیٰ مثال ہے۔
(4)
تیسرا شخص ایک مقررہ مزدوری پر مزدور رکھتا ہے، آدھا دن گزرنے کے بعد ایک اور مزدور آتا ہے، اس کو بھی مزدور رکھ لیتا ہے، وہ آدھے دن میں، دوسرے ساتھیوں کے بقدر پورے دن کا کام کر ڈالتا ہے اور مالک اس کو دوسرے مزدوروں کے برابر اجرت دے دیتا ہے، ایک مزدور ناراض ہو جاتا ہے کہ اس کو ہمارے برابر مزدوری کیسے مل گئی ہے، مالک سمجھاتاہے، تمہیں تمہاری طے شدہ مزدوری دے رہا ہوں، تجھے دوسرے کو مزدوری دینے پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، لیکن وہ نہیں مانتا اور مزدوری چھوڑ کر ناراض ہو کر چلاجاتا ہے تو مالک اس کی مزدوری کے چاولوں کو اپنی زمین میں کاشت کرنا شروع کر دیتا ہے، پھر جو پیداوار حاصل ہوتی ہے، وہ سب اس مزدور کی ملکیت قرار دیتا ہے، پھر ان کو بیچ کر جانور خریدتا ہے، اللہ ان میں اس قدر اضافہ فرماتا ہے کہ آہستہ آہستہ، اونٹ، بکریاں اور گائے کے ریوڑ تیار ہو جاتے ہیں کہ وہ ان کی نگہداشت کے لیے غلام بھی خریدتا ہے، پھر جب عرصہ گزرنے کے بعد وہ مزدور آتا ہے تو یہ اللہ کا نیک اور امانت دار بندہ وہ سارے حیوانات اور غلام جو خود اس کی محنت و کوشش اور توجہ سے فراہم ہوئے تھے تو وہ سب کے سب اس مزدور کے حوالہ کر دیتا ہے، اب ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اپنے نفس کی یہ کتنی شدید خواہش ہوگی کہ یہ دولت جو میری محنت اور توجہ سے حاصل ہوئی اور مزدور کو اس کا علم تک نہیں ہے، اس کو اپنے پاس ہی رکھا جائے، لیکن اس اللہ کے بندے نے اللہ کی خوشنودی کی طلب میں اپنے نفس کی اس شدید خواہش کو قربان کیا اور وہ ساری دولت اس مزدور کے حوالے کر دی، جو بلاوجہ ناراض ہوکر چلاگیا تھا اور بات سمجھانے کے باوجود نہیں ماناتھا۔
آیت وابتغوآ الیہ الوسیلۃ (المائدۃ: 35)
کا یہی مطلب ہے۔
نیک لوگوں کا وسیلہ یہ ہے کہ وہ زندہ ہوں تو ان سے دعا کرائی جائے، مردوں کا وسیلہ بالکل بے ثبوت چیز ہے جس سے پرہیز کرنا فرض ہے۔
(1)
اس حديث سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت دعا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کی خدمت کرنا اور انھیں بیوی بچوں پر ترجیح دینا افضل عمل ہے۔
اس عمل کی بدولت اللہ تعالیٰ دعائیں سنتا اور انھیں شرف قبولیت سے نوازتا ہے، اس کے برعکس جو انسان والدین کا نافرمان ہے اور ان کی خدمت گزاری سے پہلو تہی کرتا ہے وہ دنیا و آخرت میں ذلیل وخوار ہوگا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس انسان کی ناک خاک آلود کرے اور اسے تباہ وبرباد کرے جس نے اپنے والدین میں سے دونوں یا ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پایا، پھر ان کی خدمت کرکےجنت نہ لےسکا۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة،حدیث: 6510(2551) (2)
اس حدیث سے نیک کاموں کو بوقت دعا بطور وسیلہ پیش کرنا بھی جائز ثابت ہوا، لیکن مردوں کا وسیلہ بالکل بے ثبوت ہے، اس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔
یعنی میں نے محنت کرکے سو اشرفیاں جمع کیں۔
ابن عقبہ کی روایت کو خود امام بخاری ؒنے کتاب الادب میں وصل کیا ہے۔
تشریح: اس حدیث طویل کے ذیل میں حضرت حافظ صاحبؒ فرماتے ہیں: أَوْرَدَ فِيهِ حَدِيثَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ انْطَبَقَ عَلَيْهِمُ الْغَارُ وَسَيَأْتِي الْقَوْلُ فِي شَرْحِهِ فِي أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمَقْصُودُ مِنْهُ هُنَا قَوْلُ أَحَدِ الثَّلَاثَةِ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْأَجِيرِ حَقَّهُ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعْهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرُعَاتِهَا فَإِنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ عَيَّنَ لَهُ أُجْرَتَهُ فَلَمَّا تَرَكَهَا بَعْدَ أَنْ تَعَيَّنَتْ لَهُ ثُمَّ تَصَرَّفَ فِيهَا الْمُسْتَأْجِرُ بِعَينهَا صَارَت من ضَمَانه قَالَ بن الْمُنِيرِ مُطَابَقَةُ التَّرْجَمَةِ أَنَّهُ قَدْ عَيَّنَ لَهُ حَقَّهُ وَمَكَّنَهُ مِنْهُ فَبَرِئَتْ ذِمَّتَهُ بِذَلِكَ فَلَمَّا تَرَكَهُ وَضَعَ الْمُسْتَأْجِرُ يَدَهُ عَلَيْهِ وَضْعًا مُسْتَأْنَفًا ثُمَّ تَصَرَّفَ فِيهِ بِطَرِيقِ الْإِصْلَاحِ لَا بِطَرِيقِ التَّضْيِيعِ فَاغْتُفِرَ ذَلِكَ وَلَمْ يُعَدَّ تَعَدِّيًا وَلِذَلِكَ تَوَسَّلَ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَجَعَلَهُ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِهِ وَأُقِرَّ عَلَى ذَلِكَ وَوَقَعَتْ لَهُ الْإِجَابَةُ الخ (فتح الباري)
یعنی اس جگہ امام بخاری ؒ نے ان تین اشخاص والی حدیث کو نقل فرمایا جن کو غار نے چھپا لیا تھا، اس کی پوری شرح کتاب احادیث الانبیاء میں آئے گی۔
یہاں مقصود ان تینوں میں سے اس ایک شخص کا قول ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے اپنے مزدور کو اس کا پورا حق دینا چاہا۔
لیکن اس نے انکار کر دیا۔
پس اس نے اس کی کاشت شروع کر دی، یاں تک کہ اس نے اس کی آمد سے بیل اوراس کی لیے ہالی خرید لئے۔
پس ظاہر ہے کہ اس نے اس مزدور کی اجرت مقرر کر رکھی تھی مگر اس نے اسے چھوڑ دیا۔
پھر اس مالک نے اپنی ذمہ داری پر اسے کاروبار میں لگایا۔
ابن منیر نے کہا کہ مطابقت یوں ہے کہ اس باغ والے نے اس کی اجرت مقرر کر دی اور اس کو دی۔
مگر اس مزدور نے اسے چھوڑ دیا۔
پھر اس شخص نے اصلاح اور ترقی کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔
اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا افضل عمل سمجھا اور بطور وسیلہ دربار الٰہی میں پیش کی اور اللہ اس نے اس عمل خیر کو قبول فرمایا اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
اس سے اعمال کو بطور وسیلہ بوقت دعاءدربار الٰہی میں پیش کرنا بھی ثابت ہوا۔
یہی وہ وسیلہ ہے جس کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 35)
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور (اعمال خیر سے)
اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو، اور اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے جد و جہد محنت کوشش بصورت جہاد وغیرہ جاری رکھو تاکہ تم کو کامیابی حاصل ہو۔
جو لوگ اعمال خیر کو چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں اور اسی خیال باطل کے تحت ان کو اٹھتے بیٹھتے پکارتے ہیں وہ لوگ شرک کا ارتکاب کرکے عنداللہ زمرہ مشرکین میں لکھے جاتے ہیں۔
ابلیس علیه اللعنة کا یہ وہ فریب ہے جس میں نام نہاد اہل اسلام کی کثیر تعداد گرفتار ہے۔
اسی خیال باطل کے تحت بزرگان دین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات پر تقریبات کی جاتی ہیں۔
قربانیاں دی جاتی ہیں۔
عرس کئے جاتے ہیں۔
ان کے ناموں پر نذریں نیازیں ہوتی ہیں۔
یہ جملہ امور مشرکین قوموں سے سیکھے گئے ہیں اور جو مسلمان ان میں گرفتار ہیں ان کو اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہئے۔
(1)
اس حدیث میں واضح طور پر ہے کہ تیسرے شخص نے ایک مزدور کا حق اسے پیش کیا تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد مالک نے اس کی مزدوری میں تصرف کیا اور اسے کام میں لگایا، اگر یہ تصرف جائز نہ ہوتا تو اللہ کی نافرمانی ہوتی جو سراسر گناہ ہے پھر اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب کیونکر حاصل ہو سکتا تھا۔
چونکہ اس نے مزدور کی مرضی کے بغیر اسے کام میں لگایا تھا اس بنا پر اگر اس کی مزدوری ضائع ہو جاتی تو اس پر تاوان واجب تھا، اس بنا پر عنوان صحیح ہے اور یہ حدیث بھی اس کے مطابق ہے۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کرنا جائز اور مشروع ہے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے شارح بخاری ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے: اس شخص نے مزدور کی اجرت مقرر کر کے اس کے حوالے کر دی مگر اس نے لینے سے انکار کر دیا اور اسے چھوڑ کر چلا گیا، چنانچہ اس شخص نے ترقی اور اصلاح کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔
اسے ضائع کرنا مقصود نہیں تھا، اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا بہترین عمل خیال کیا اور بطور وسیلہ اللہ کے حضور پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما کر انہیں نجات دی، اس کے باوجود اگر مزدوری ضائع ہو جاتی تو اس کا تاوان ادا کرنا ہوتا کیونکہ اس نے تصرف کی اجازت نہیں دی تھی۔
(فتح الباري: 21/5) (3)
واضح رہے کہ جو لوگ اعمال خیر چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، پھر وہ ان کے نام پر نذریں، نیازیں دیتے ہیں انہیں اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہیے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے کوئی ذریعہ تلاش کرو۔
‘‘ (المائدة: 35: 5)
اعمال خیر کے بغیر کسی اور چیز سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے ہمیں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔
آمین
اس سے مقصود اخیر شخص کا بیان ہے کیوں کہ بغیر مالک سے پوچھے اس جوار کو دوسرے کام میں صرف کیا اور اس سے نفع کمایا، اور بیع کو بھی اس پر قیاس کیا۔
تو بیع فضولی نکاح فضولی کی طرح صحیح ہے اور مالک کی اجازت پر نافذ ہوجاتی ہے۔
اس حدیث طویل سے اعمال صالحہ کو بطور وسیلہ اللہ کے سامنے پیش کرنا بھی ثابت ہوا کہ اصل وسیلہ ایسے ہی اعمال صالحہ کا ہے اور آیت کریمہ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ کا یہی مفہوم ہے۔
جو لوگ قبروں، مزاروں اور مردہ بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔
اور ایسے وسائل بعض دفعہ شرکیات کی حد میں داخل ہوجاتے ہیں۔
حدیث میں چرواہے کا واقعہ ہے جس سے بچوں پر ظلم کا شبہ ہوتا ہے کہ وہ رات بھر بھوکے بلبلاتے رہے۔
مگر یہ ظلم نہیں ہے۔
یہ ان کی نیک نیتی تھی کہ وہ پہلے والدین کو پلانا چاہتے تھے اور آیت کریمہ ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ (الحشر: 9)
کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے جو یہاں مذکور ہے۔
وهنا طریق أخر في الجواز و وهو أنه صلی اللہ علیه وسلم ذکر هذہ القصة في معرض المدح و الثناء علی فاعلها و أقرہ علی ذلك و لو کان لا یجوز لبینه۔
یعنی باب کے مضمون مذکورہ کا جواز یوں بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے اس قصہ کو اور اس میں اس مزدور کے متعلق امر واقعہ کو بطور مدح و ثنا ذکر فرمایا۔
اسی سے مضمون باب ثابت ہوا کہ اگر یہ فعل ناجائز ہوتا تو آپ اسے بیان فرما دیتے۔
(1)
فرق، دو صاع کے برابر غلہ ناپنے کا ایک پیمانہ ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ نے بیع فضولی کا جواز ثابت کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے کوئی چیز خرید لے، پھر وہ راضی ہوجائے تو یہ سودا جائز ہے۔
دوسرے شخص کا راضی ہونا ضروری ہے۔
بیع فضولی،نکاح فضولی کی طرح صحیح ہے اور دوسرے شخص کی اجازت پر نافذ ہوجاتی ہے۔
امام بخاری ؒ کا استدلال اس حدیث میں آخری شخص کا بیان ہے کیونکہ اس نے اصل مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مملوکہ مال کو کام میں صرف کیا، اس سے نفع کمایا،گائیں خریدیں اور نگہبانی کے لیے ایک چرواہا رکھا، آخر کار اس مزدور نے اسے قبول کرلیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس واقعے کو بطور مدح وثنا کے بیان فرمایا۔
اگر آخری شخص کا یہ عمل ناجائز ہوتا تو وہ اسے اللہ کے حضور کیوں پیش کرتا؟ نیز رسول اللہ ﷺ بھی اس کی وضاحت فرمادیتے۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہمارے لیے حجت ہے بشرطیکہ اس کا کوئی ضابطہ ہماری شریعت کے خلاف نہ ہو اور رسول اللہ ﷺ سے اس پر انکار ثابت نہ ہو، لیکن فکر فراہی کے حاملین کو اس طریق استدلال سے اتفاق نہیں۔
انھوں نے اس حدیث کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ اس قصے سے فقہی اصول مستنبط نہیں کیے جاسکتے، نیز ان کے نزدیک اس حدیث میں بہت عریانی پائی جاتی ہے، اس کے علاوہ دعا کا یہ طریقہ اسلام کے مزاج کے منافی ہے، پھر اس طرح کی دیگر روایات جن سے دعا کرتے وقت کسی نیک عمل یا کسی زندہ نیک شخص کے وسیلے کا ذکر ہے ان کا انکار کیا ہے اور انھیں شیعہ حضرات کی گھڑی ہوئی کہانی قرار دیا ہے، پھر اس انکار کی بنیاد کوئی علمی اصول نہیں بلکہ ان کی طبع زاد "درایت" ہے۔
اس درانتی سے صحیح احادیث کو کاٹا جاتا ہے۔
(تدبر حدیث: 498/1)
بہر حال ہمارے نزدیک بیع فضولی صحیح ہے اور اعمال صالحہ کو اللہ کے حضور بطور وسیلہ پیش کیا جاسکتا ہے۔
قرآن کریم میں بھی اس کا اشارہ ملتا ہے۔
(المائدة: 35: 5)
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اعمال صالحہ کو بطور وسیلہ پیش کرنا جائز ہے۔
آیت کریمہ ﴿وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾ کا یہی مطلب ہے کہ اس اللہ کی طرف نیک اعمال کا وسیلہ ڈھونڈو۔
جو لوگ بزرگوں، ولیوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں یا محض ذات نبوی کو بعد وفات بطور وسیلہ پیش کرتے ہیں وہ ایسا عمل کرتے ہیں جس پر کتاب و سنت سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہے۔
اگر بعد وفات آنحضرت ﷺ کی ذات اقدس کو بطور وسیلہ پیش کرنا جائز ہوتا تو حضرت عمر ؓ ایک استسقاءکی دعا کے موقع پر ایسا نہ کہتے کہ یا اللہ! ہم رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دعا کرانے کے لیے آپ کو پیش کیا کرتے تھے۔
اب اللہ کے نبی دنیا سے چلے گئے اور آپ کے محترم چچا حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی موجود ہے لہٰذا دعا کرانے کے لیے ہم ان کو پیش کرتے ہیں تو ان کی دعائیں ہمارے حق میں قبول فرما کر ہم کو باران رحمت سے شاداب فرمادے۔
(1)
استدلال کی بنیاد حدیث مذکور میں تیسرے شخص کا کردار ہے کہ اس نے ایک مزدور کے مال کو از خود کام میں لگایا جس سے خوب نفع حاصل ہوا، پھر اسی کو دے دیا۔
یہ اس صورت میں ہے جب سابقہ امتوں کے احکام ہمارے لیے مشروع ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ واقعہ بطور مدح وثنا ذکر فرمایا اور ان کے کردار پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا۔
اگر یہ کام ہماری شریعت میں جائز نہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کی وضاحت فرمادیتے۔
رسول اللہ ﷺ نے یہ واقعہ اگرچہ بطور وعظ ونصیحت بیان فرمایا، تاہم امام بخاری ؒ نے اس سے ایک فقہی مسئلے کا استنباط کیا ہے۔
(2)
شارح بخاری ابن بطال لکھتے ہیں کہ اگر کسی نے غصب کردہ یا امانت والے مال کو تجارت میں لگایا تو اس نفع اس کے لیے جائز ہے جبکہ اصل مال اس کے مالک کو واپس کردیاجائے۔
(فتح الباري: 517/4)
ہمارے رجحان کے مطابق کسی کی امانت میں تصرف کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
اگر کوئی تصرف کرکے نفع کماتا ہے تو وہ اصل مالک کا ہے زیادہ سے زیادہ وہ اپنی محنت کا معاوضہ’’معروف طریقے‘‘ کے مطابق لے سکتا ہے۔
اگر اس مال میں کمی ہوجائے یا وہ ضائع ہوجائے تو کام میں لانے والا اس کا ضامن ہوگا کیونکہ اس نے مال غیر میں بلا اجازت تصرف کیا ہے جو اس کے لیے شرعاً جائز نہ تھا۔
(3)
اصلاحی صاحب اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں: ’’میرے نزدیک یہود میں مروج یہ ایک حکایت ہے ضروری نہیں کہ یہ حقیقی واقعہ ہو۔
اہل کتاب میں یہود کا مزاج اسی طرح کا ہے۔
‘‘ (تدبرحدیث: 566/1)
گویا مولانا اصلاحی اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک یہ کوئی سچی حکایت نہیں بلکہ ایک فرضی داستان ہے۔
نعوذ بالله من هذه الهفوات الإصلاحي و أنصاره