صحيح مسلم
كتاب الرقاق— کتاب الرقاق
باب أَكثَرِ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْفُقَرَاءُ ، وَ أَكثَرِ أَهْلِ النَّارِ النِّسَاءُ ، وَبَيَانِ الْفِتْنَةِ بِالنِّسِاءِ باب: جنت والے اکثر فقراء ہوں گے اور جہنم والے اکثر عورتیں ہوں گی، اور عورتوں کے فتنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى جَمِيعًا ، عَنْ الْمُعْتَمِرِ ، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أنهما حدثا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِي النَّاسِ فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ " ،عبیداللہ بن معاذ عنبری، سعید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں معتمر سے حدیث بیان کی۔ ابن معاذ نے کہا: ہمیں معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: ہمیں ابوعثمان نے حضرت اسامہ بن زید اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے بعد لوگوں میں کوئی ایسا فتنہ چھوڑ کر نہیں جا رہا جو مردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر نقصان پہنچانے والا ہو۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالاروایت بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
زر، زمین، زن یعنی جورو کی بابت فسادات تاریخ انسانی میں ہمیشہ ہوتے چلے آئے ہیں۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے نحوست کے بارے میں یہ حدیث بیان کر کے نحوست کی نوعیت کو متعین کیا ہے کہ اس سے مراد دور جاہلیت کی نحوست نہیں، یعنی اگر کسی کام کے لیے جاتے وقت سامنے عورت آ گئی تو اسے منحوس خیال کرتے ہوئے کام سے واپس آ جائے بلکہ اس سے مراد اس کی بد زبانی اور ایذا رسانی ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث میں دوسری اشیاء کی نسبت عورتوں کا فتنہ زیادہ خطرناک بتایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’لوگوں کے لیے شہوات کی محبت کو مزین کیا گیا ہے، یعنی عورتوں اور بیٹوں کی محبت۔
‘‘ (آل عمران: 14)
اس آیت کریمہ میں سرفہرست عورتوں کو بیان کیا گیا ہے۔
اس میں یہ اشارہ ہے کہ شہوت میں اصل عورتیں ہیں اور ان کا فتنہ بہت سخت ہے کیونکہ یہ مردوں کو قطع رحمی اور اللہ تعالیٰ کی معصیت پر ابھارتی ہیں۔
ایک حدیث میں ہے: ’’عورتوں سے بچو کیونکہ پہلا پہلا فتنہ جو بنی اسرائیل میں رونما ہوا وہ عورتوں کی وجہ سے تھا۔
‘‘(صحيح مسلم، الرقاق، حديث: 6948 (2742)
، و فتح الباري: 173/9) (2)
کہا جاتا ہے کہ زر، زمین اور زن فتنوں کی بنیاد ہیں۔
بعض دفعہ عورتوں کے فتنے میں قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
عورتوں کی بابت فسادات تاریخ انسانی میں ہمیشہ ہوتے چلے آئے ہیں۔
قرآن کریم نے عزیز مصر اور زنانِ مصر کے فتنے کو نمایاں طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’بلاشبہ تم عورتوں کا مکر و فریب بہت بھاری ہوتا ہے۔
‘‘ (يوسف: 28)
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3998]
فوائد و مسائل:
(1)
مرد وعورت کا تعلق ایک فطری تعلق ہےلیکن شریعت نے اس کے لیے کچھ اصول وقواعد مقرر کیے ہیں۔
مرد جذبات سے مغلوب ہوکر یہ اصول توڑدیتا ہے اس لیے مرد کے لیے یہ چیز ایک آزمائش ہے۔
(2)
اس آزمائش میں پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ عورت سے تعلق جائز شرعی طریقے سے (نکاح کے ذریعے سے)
قائم کیا جائے۔
(3)
بعض دفعہ مرد بیوی کو خوش کرنے کے لیے ماں باپ کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے یا رشتہ داروں سے تعلقات خراب کرلیتا ہے یا بیوی کی فرمائش پوری کرنے کے لیے حرام طریقے سے مال حاصل کرتا ہے۔
مومن کو چاہیے کہ ان معاملات میں احتیاط سے کام لے تاکہ بیوی کو خوش کرنے کے لیے اللہ تعالی کو ناراض نہ کر بیٹھے۔
(4)
عورت کے لیے مرد بھی اسی طرح آزمائش ہے۔
خاوند کو خوش کرنے کے لیے اللہ کی نافرمانی کرنا اس آزمائش میں ناکامی ہے۔
اسامہ بن زید اور سعید بن زید رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والا کوئی فتنہ نہیں چھوڑا " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2780]
وضاحت:
1؎:
مرد عورتوں کے حسن وعشق کا شکار ہو کر اپنا دین ودنیا سب تباہ اور حکومت واقتدار سب گنوا بیٹھتے ہیں۔
اسی فتنے کو استعمال کر کے عیسائیوں اور یہودیوں نے ملت کو پارہ پارہ کر دیا اور مسلمانوں کوغلام اور زیر نگیں کرلیا۔
اس حدیث میں عورتوں کے فتنے کو بہت برا قرار دیا گیا ہے، اگر غور و فکر کیا جائے کہ عورت کتنے طریقوں سے مردوں کو گمراہ کرتی ہے تو اس کی درج ذیل اہم صورتیں سامنے آئیں گی: ① اپنی خوبصورتی کی وجہ سے
② نرم و نازک زبان کی وجہ سے
③ ہاتھوں اور آنکھوں کے غلط اشاروں کی وجہ سے
④ طمع اور لالچ کی وجہ سے
⑤ زنا کاری کی وجہ سے وغیرہ وغیرہ۔
اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر عورت ہی فتنہ ہے، بلکہ بعض عورتیں مراد ہیں، اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے که صرف عورتیں ہی فتنہ ہیں، مرد نہیں، بلکہ کئی مرد بھی فتنہ ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں عورتوں کا فتنہ بہت ہی خطرناک شکل اختیار کر گیا ہے، تمام شعبہ جات میں عورتوں ہی کو آگے کر دیا گیا ہے، حالانکہ عورت کو گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (الاحزاب: 33)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پردے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے گردن اٹھا کر دیکھتا ہے، وہ اللہ کے اس سے زیادہ قریب کبھی نہیں ہوتی جتنی قریب وہ گھر میں رہ کر ہوتی ہے۔ [الـمـعـجـم الاوسط للطبراني: حديث: 2890 سـلـسـلة الاحـاديـث الـصحيحة للألباني: 187/6 حديث: 2688]
عورت بطور ضرورت سادگی کی حالت میں باپردہ ہو کر نظریں جھکاتے ہوئے گھر سے باہر جا سکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عورتوں کو اجازت دے دی گئی ہے کہ اپنی حاجت کے لیے باہرنکلو۔ [صحيح البخاري كتاب التفسير باب قوله لا تدخلوا بيوت النبى: 4795]