صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فَضْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ: باب: سبحان اللہ وبحمدہ کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُئِلَ أَيُّ الْكَلَامِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " مَا اصْطَفَى اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ أَوْ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .وہیب نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابوعبداللہ جسری سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: (اللہ کے ذکر کے لیے) کون سا کلمہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے یا (ان سمیت) اپنے تمام بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے: «سبحان اللہ وبحمدہ» میں (ہر نعمت کے لیے) اللہ کی حمد کے ساتھ ہر ناشایان چیز سے اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ مِنْ عَنَزَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ ؟ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ " .شعبہ نے جریر سے، انہوں نے ابوعبداللہ جسری سے جو عنزہ قبیلے سے تھے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتاؤں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وہ کلمہ بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سبحان اللہ وبحمدہ» ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب کلمہ سبحان اللہ وبحمدہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عیادت کی (یہاں راوی کو شبہ ہو گیا) یا انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کی، تو انہوں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! کون سا کلام اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ” وہ کلام جو اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے منتخب فرمایا ہے (اور وہ یہ ہے) «سبحان ربي وبحمده سبحان ربي وبحمده» ” میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3593]
وضاحت:
1؎:
میرا رب پاک ہے اور تعریف ہے اسی کے لیے، میرا رب پاک ہے اور ہر طرح کی حمد اسی کے لیے زیبا ہے۔