صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ: باب: موزوں پر مسح کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ ، فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ ، فَقَالَ : ادْنُهْ ، فَدَنَوْتُ حَتَّى قُمْتُ عِنْدَ عَقِبَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ " .حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کچھ لوگوں کے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو میں دور ہٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جا!“ تو میں قریب ہو کر آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا (فراغت کے بعد) آپ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " كَانَ أَبُو مُوسَى ، يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ ، وَيَبُولُ فِي قَارُورَةٍ ، وَيَقُولُ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، كَانَ إِذَا أَصَابَ جِلْدَ أَحَدِهِمْ بَوْلٌ ، قَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَوَدِدْتُ أَنَّ صَاحِبَكُمْ ، لَا يُشَدِّدُ هَذَا التَّشْدِيدَ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى ، فَأَتَى سُبَاطَةً خَلْفَ حَائِطٍ ، فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ ، فَبَالَ ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ ، فَأَشَارَ إِلَيَّ ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ ، حَتَّى فَرَغَ " .منصور نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے: بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنے حصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا۔ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب (استاد) اس قدر سختی نہ کرے، میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پر آئے، آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتیٰ کہ آپ فارغ ہو گئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر بیٹھنے کے لیے جگہ نہ ملے اور پیشاب کی ضرورت لاحق ہوجائے، تو کھڑے ہوکر پیشاب کیا جاسکتا ہے، کیونکہ بیٹھ کر پیشاب کرنا تہذیب وشائستگی کی علامت ہے، اور اس کا تعلق آداب واخلاق سے ہے، اس لیے کبھی کبھار ضرورت کے تحت ایسے کرنا جائز ہے۔
آپ کی عام عادت دور جانے کی تھی اور اس دفعہ آپ دور بھی تشریف نہیں لے گئے اور پردہ کے لیے حضرت حذیفہ ؓ کو اپنے پیچھے کھڑا کیا۔
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں (آ کر) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 13]
1؎:
یعنی حماد اور عاصم نے بھی ابو وائل ہی سے روایت کی ہے مگر ابو وائل نے حذیفہ کے علاوہ ’’مغیرہ بن شعبہ‘‘ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے، ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ایک راوی نے ایک حدیث دو دو راویوں سے روایت کی ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ ابو وائل نے دونوں صحابیوں سے سنا ہو۔
2؎:
کیونکہ اعمش والی روایت صحیحین میں بھی ہے جبکہ عاصم والی روایت صرف ابن ماجہ میں ہے گرچہ وہ بھی صحیح ہے، (معاملہ صرف ’’زیادہ صحیح‘‘ ہونے کا ہے)
«. . . عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبَاطَةَ قَوْمٍ، فَبَالَ قَائِمًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ . . .»
”. . . حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے خانہ (گھور) پر آئے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎ پھر پانی منگوایا (اور وضو کیا) اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 23]
➊ معلوم ہوا کہ ضرورت کے موقع پر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے بشرطیکہ چھینٹے پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔ چنانچہ اس حدیث کے پیش نظر حضرت عمر، حضرت علی، ابن عمر اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے لیکن سنت یہ ہے کہ آدمی بیٹھ کر پیشاب کرے کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ’’ جو شخص تمہیں یہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کیا کرتے تھے تو اس کی بات کی تصدیق نہ کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے۔“ [جامع الترمذي، الطهارة، باب ما جاء فى النهي عن البول قائما، حديث: 12، وسنن النسائي، الطهارة، حديث: 29]
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلے میں سب سے زیادہ صحیح روایت یہی ہے اور پھر بیٹھ کر پیشاب کرنے میں پردہ پوشی بھی زیادہ ہے اور آدمی پیشاب کے چھینٹوں سے بھی زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ آج کل ماڈرن قسم کے لوگ، جو مغرب کی نقالی میں حد سے بڑھ چکے ہیں، ہوٹلوں اور پارکوں میں کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں، حالانکہ ہر معاملے میں غیروں کی نقالی کرنا سراسر حدیث رسول کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور انگریز کی اور غیر مسلموں کی نقالی سے بچائے۔
➋ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض حالات میں لوگوں کے قریب بھی پیشاب کیا جا سکتا ہے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ لوگوں کے ایک کوڑے خانہ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ۱؎، میں آپ سے دور ہٹ گیا، تو آپ نے مجھے بلایا ۲؎، (تو جا کر) میں آپ کی دونوں ایڑیوں کے پاس (کھڑا) ہو گیا یہاں تک کہ آپ (پیشاب سے) فارغ ہو گئے، پھر آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 18]
➋ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عام عادت بیٹھ کر پیشاب کرنے ہی کی تھی مگر مذکورہ واقعہ میں آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ اس کی مختلف عقلی و نقلی توجیہات کی گئی ہیں، مثلاً: ڈھیر کی گندگی سے بچنے کے لیے کیونکہ ڈھیر پر بیٹھنے کی صورت میں کپڑوں یا جسم کو گندگی لگ سکتی تھی یا اس لیے کہ پیشاب کی دھار دور گرے۔ بیٹھنے کی صورت میں پیشاب قریب گرتا اور واپس پاؤں کی طرف آتا، نیز چھینٹے بھی پڑتے یا گھٹنے میں تکلیف کی وجہ سے بیٹھنا مشکل تھا جیسا کہ بیہقی کی ایک ضعیف روایت میں ہے۔ [السنن الکبریٰ، للبیھقی: 101/1]
یا کمر درد کے علاج کے لیے جیسا کہ اطباء کا خیال تھا۔ بہرحال مذکورہ توجیہات کی روشنی میں عمومی رائے یہی ہے کہ آپ کے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ان میں سے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی، لیکن تحقیق یہ ہے کہ ان مذکورہ وجوہ میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی ایک وجہ بھی بسند صحیح ثابت نہیں، اس لیے اس کے مقابلے میں ایک دوسری رائے بھی ہے جسے امام نووی رحمہ اللہ وغیرہ نے اختیار کیا اور وہ یہ ہے کہ آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب صرف بیان جواز کے لیے کیا ہے جبکہ آپ کی عام عادت بیٹھ کر ہی پیشاب کرنے کی تھی۔ دیکھیے: [صحیح مسلم، اطھارۃ، حدیث: 274، مع شرح النووي]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے متعلق فرماتے ہیں، «وإلا ظھر أنه فعل ذلک لبیان الجواز……» ’’زیادہ واضح بات یہ ہے کہ آپ کا یہ عمل صرف بیان جواز کے لیے تھا……“ [فتح الباري: 430/1، طبع دارالسلام]
نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس بارے میں منقول توجیہات کو گویا قابل حجت نہیں سمجھا، بہرحال اگر کوئی شخص ضرورت کے پیش نظر یا کبھی کبھار بلا ضرورت ہی جواز کو پیش نظر رکھتے ہوئے کھڑے ہو کر سنت پر عمل کی خاطر پیشاب کر لیتا ہے تو ان شاء اللہ جائز ہو گا۔ واللہ أعلم۔
➌ باب کا مقصد یہ ہے کہ اگر آواز یا بدبو کا خدشہ نہ ہو تو پیشاب کے لیے صرف پردہ کافی ہے، دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔