صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب التَّسْبِيحِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَعِنْدَ النَّوْمِ: باب: سوتے وقت اور دن کے آغاز میں تسبیح کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَكَتِ الْعَمَلَ ، فَقَالَ : مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا ، قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ ؟ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُكَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَكِ " ،روح بن قاسم نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خدمت گزار (کنیز) مانگنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے کام کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں خدمت گزار تو ہمارے ہاں نہیں ملا۔ (ہمارے گھر میں بھی موجود نہیں)“، فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خدمت گزار سے بہت بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس بار «سبحان اللہ» کہو، تینتیس بار «الحمد للہ» کہو اور چونتیس بار «اللہ اکبر» کہو۔“
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔