صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فِي الْأٓدْعِيَةِ باب: دعاؤں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2724
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دعا کرتے ہوئے یہ) فرمایا کرتے تھے: «لا الٰہ الا اللہ وحدہ، اعز جندہ ونصر عبدہ وغلب الاحزاب وحدہ، فلا شیء بعدہ» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس نے اپنے لشکر کو عزت دی، اپنے بندے کی نصرت کی، اکیلا وہ تمام جماعتوں پر غالب آیا، (وہی آخر ہے) اس کے بعد کچھ نہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے۔" اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، وہ یکتا ہے، اس نے اپنے لشکر کو قوت بخشی اور اکیلا ہی تمام گروہوں پر غالب آگیا اور اپنے بندہ کی نصرت فرمائی۔ اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6910]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس دعا میں جنگ احزاب کی طرف اشارہ ہے اور لا شيئی بعده کا معنی ہے، اس کے سوا ہر چیز قابل فنا ہے، کسی کا وجودو بقا ذاتی نہیں ہے، صرف اللہ کا وجود اپنا ہے، جو فنا پذیر نہیں ہے، باقی سب مخلوق کو وجود اس کی طرف سے ملا ہے اور اس کے باقی رکھنے سے ہی وہ باقی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2724 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4114 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4114. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو غالب کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اس اکیلے نے کافروں کے لشکر کو مغلوب کیا۔ (وہ باقی ہے اور) اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4114]
حدیث حاشیہ: یہ وہ مبارک الفاظ ہیں جو جنگ احزاب کے خاتمہ پر بطور شکر زبان رسالت مآب ﷺ سے ادا ہوئے۔
اس دفعہ کفار عرب متحدہ محاذ بنا کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے مگر اللہ تعالی نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا اور مسلمانوں کو ان سے بال بال بچا لیا۔
اب بطور یاد گار ان الفاظ کو پڑھنا اور یاد کرنا موجب صد خیر وبرکت ہے۔
خاص طور پر حج کے مقامات پر ان کو زبان سے ادا کرنا ہر حاجی کو بہت اجر وثواب ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو دنیا میں شر سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
اس دفعہ کفار عرب متحدہ محاذ بنا کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے تھے مگر اللہ تعالی نے ان کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا اور مسلمانوں کو ان سے بال بال بچا لیا۔
اب بطور یاد گار ان الفاظ کو پڑھنا اور یاد کرنا موجب صد خیر وبرکت ہے۔
خاص طور پر حج کے مقامات پر ان کو زبان سے ادا کرنا ہر حاجی کو بہت اجر وثواب ہے۔
اللہ تعالی ہر مسلمان کو دنیا میں شر سے محفوظ رکھے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4114 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4114 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4114. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ وہ تنہا ہے۔ اس نے اپنے لشکر کو غالب کیا اور اپنے بندے کی مدد فرمائی۔ اس اکیلے نے کافروں کے لشکر کو مغلوب کیا۔ (وہ باقی ہے اور) اس کے بعد کچھ بھی نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4114]
حدیث حاشیہ:
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دیا اور انھیں فتح وکامرانی عطا فرمائی۔
مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے لشکر کو مغلوب کیا، جنھوں نے مدینہ طیبہ پرچڑھائی کی تھی۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہنے والا ہے باقی ہر چیز نے فنا سے دوچار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس کی ذات کے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے۔
‘‘ (القصص: 88: 28 وفتح الباري: 508/7)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دیا اور انھیں فتح وکامرانی عطا فرمائی۔
مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کے لشکر کو مغلوب کیا، جنھوں نے مدینہ طیبہ پرچڑھائی کی تھی۔
صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہنے والا ہے باقی ہر چیز نے فنا سے دوچار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اس کی ذات کے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے۔
‘‘ (القصص: 88: 28 وفتح الباري: 508/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4114 سے ماخوذ ہے۔