حدیث نمبر: 2721
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى " ،

محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث سنائی، انہوں نے ابواحوص سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللہم انی اسألک الہدیٰ والتقویٰ والعفاف والغنٰی» ”اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پاک دامنی، اور (دل کا) غنا مانگتا ہوں۔“

وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّى ، قَالَ فِي رِوَايَتِهِ : وَالْعِفَّةَ .

محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا: ہمیں عبدالرحمان نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، البتہ ابن مثنیٰ نے اپنی روایت میں (عفاف کی بجائے) ”عفت“ کا لفظ کہا۔ (مفہوم ایک ہی ہے۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2721
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3489 | سنن ابن ماجه: 3832

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ آپ یہ دعا فرماتے تھے۔"اے اللہ! میں تجھی سے ہدایت اور تقوی، پاکدامنی اور مخلوق سے بےنیازی مانگتا ہوں۔" [صحيح مسلم:6904]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ بھی انتہائی جامع دعا ہے، اس میں ہدایت یعنی راہ حق پر چلنا اور اس پر استقامت اختیار کرنا، تقویٰ و پرہیز گاری یعنی معاصی اور منکرات اور سیئات سے بچاؤ اور تحفظ، عفت و پاکدامنی، یعنی نامناسب چیزوں سے اجتناب
اور لوگوں سے بے نیازی و استغناء کا سوال کیا گیا ہے
اور ان کے بغیر انسان اطمینان و سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2721 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3489 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بے نیازی چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي: 3489]
اردو حاشہ:
وضاحت: اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا طالب ہوں، تقویٰ کا طلب گار ہوں، پاکدامنی کا خواہشمند ہوں، مالداری اور بےنیازی چاہتا ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3489 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3832 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه: 3832]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:  
(1) اللہ تعالیٰ ہی ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھنے والا ہے۔
(2) یہ دعا کئی طرح کے شرور سے حفاظت کا سوال ہے۔ ہدایت گمراہی سے، تقویٰ گناہ سے، عفاف وعفت غیر شریفانہ عادتوں اور بے حیائی سے، غنائے قلب طمع و بخل سے اور غنائے ظاہری دنیوی ضروریات کے لیے کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سےحفاطت کا باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3832 سے ماخوذ ہے۔