صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فِي الْأٓدْعِيَةِ باب: دعاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ الْقُطَعِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي ، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي ، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللہم اصلح لی دینی الذی ہو عصمة امری، واصلح لی دنیای التي فیہا معاشی، واصلح لی آخرتی التي فیہا معادی، واجعل الحیاة زیادتہ لی فی کل خیر، واجعل الموت راحة لی من کل شر» ”اے اللہ! میرے دین کو درست کر دے، جو میرے (دین و دنیا کے) ہر کام کے تحفظ کا ذریعہ ہے اور میری دنیا کو درست کر دے جس میں میری گزران ہے اور میری آخرت کو درست کر دے جس میں میرا (اپنی منزل کی طرف) لوٹنا ہے اور میری زندگی کو میرے لیے ہر بھلائی میں اضافے کا سبب بنا دے اور میری وفات کو میرے لیے ہر شر سے راحت بنا دے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ''امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود پر فائز کرے۔
'' (بنی اسرائیل: 79)
نیز فرمایا: ''آپ کی آخرت، اس دنیا سے کہیں بلند مرتبہ ہو گی اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر نوازے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔
'' (الضحیٰ 4-
5)
چونکہ دعا ایک عبادت بلکہ روح عبادت ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی دعائیں مانگی ہیں۔
پھر آپ نے اظہار عبادیت یا امت کو تعلیم دینے کے لیے مذکورہ دعائیں کی ہیں۔
یہ دعائیں اس بنا پر نہیں ہیں کہ واقعی آپ گناہ گار یا خطا کار تھے۔
بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے معصوم اور نافرمانی سے مبرا تھے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس کی صراحت کی ہے۔
(الفتح: 9) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں دوران نماز میں سلام سے پہلے پڑھتے تھے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے بعد پڑھتے تھے۔
ان روایات کے پیش نظر اس امر کا قوی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام سے پہلے اور بعد دونوں مواقع پر یہ دعائیں پڑھتے ہوں۔
(فتح الباري: 236/11)
حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی مکاتیب میں فرماتے ہیں وہ پاک پروردگار ایسا مستغنی اور بے پرواہ ہے کہ اگر چاہے تو ہر روز حضرت ابراہیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح لاکھوں آدمیوں کو پیدا کر دے اور اگر چاہے تو دم بھر میں جتنے مقرب بندے ہیں ان سب کو راندئہ درگاہ بنا دے۔
جل جلالہ۔
یہاں مشیت کا ذکر ہو رہا ہے، مشیت اور چیز ہے اورقانون اورچیز ہے۔
قوانین الٰہی کے بارے میں صاف ارشاد ہے۔
﴿فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا﴾ (فاطر: 43)
صدق اللہ تبارك وتعالیٰ۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے «اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطئي وعمدي وكل ذلك عندي اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت على كل شيء قدير» ’’ الٰہی! میری خطا معاف فرما دے۔ نیز میری نادانی و جہالت کے کاموں کو بخش دے۔ میرے کام میں مجھ سے جو زیادتیاں سرزد ہوئیں ان کو بھی اور جو کچھ میرے بارے میں تیرے علم میں ہے ان سب کو بھی معاف فرما دے۔ اے اللہ! مجھ سے ارادۃ یا غیر ارادی طور پر جو کچھ صادر ہوا اس کی مغفرت فرما دے۔ خواہ وہ میرے لغزش ہو یا ارادے سے ہو یہ سب میرے ہی جانب سے ہوا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ میں کر چکا ہوں یا جو آئندہ کروں گا اور جو میرا پوشیدہ ہے یا جو مجھ سے ظاہر ہوا ہے اور جو کچھ بھی میرے متعلق تیرے علم میں ہے وہ سب بخش دے۔ تو ہی پہلے ہے اور تو ہی بعد میں اور تو ہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1354»
«أخرجه البخاري، الدعوات، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: ((اللّٰهم! اغفرلي...))، حديث:6398، ومسلم، الذكر والدعاء، باب التعوذ من شر ما عمل...، حديث:2719.»
تشریح: 1.اس قسم کی جتنی دعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں یہ آپ نے امتثال امر کے لیے مانگی ہیں کیونکہ آپ تو معصوم عن الخطا تھے‘ یا امت کو تعلیم دینے کی غرض سے مانگی ہیں۔
2.بعض روایات میں ہے کہ یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے آخر میں پڑھتے اور بعض میں ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد۔
عین ممکن ہے کہ دونوں طرح آپ نے یہ دعا پڑھی ہو‘ کبھی سلام سے پہلے کبھی سلام کے بعد۔