حدیث نمبر: 2719
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ،

معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللہم اغفرلی خطیئتی وجہلی و اسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی، اللہم اغفرلی جدّی و ہزلی و خطئی و عمدی و کل ذٰلک عندی، اللہم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما انت اعلم بہ منی، انت المقدم وانت المؤخر وانت علیٰ کل شیء قدیر» ”اے اللہ! میری خطا، میری لاعلمی، اپنے (کسی) معاملے میں میرا حد سے آگے یا پیچھے رہ جانا اور وہ سب کچھ جو میری نسبت تو زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے۔ اے اللہ! میرے وہ سب کام جو (تجھے پسند نہ آئے ہوں) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحاً کیے ہوں، بھول چوک سے کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں، ان کو بخش دے۔ اے اللہ! میری وہ باتیں (جو تجھے پسند نہیں آئیں) بخش دے جو میں نے پہلے کیں یا جو میں نے بعد میں کیں، اکیلے میں کیں یا جو میں نے سب کے سامنے کیں اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے، تو ہی (جسے چاہے اپنی رحمت کی طرف) آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔“

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ .

عبدالملک بن صباح مسمعی نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے (یہی) حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2719
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ مجھے میری لغزشیں معاف کردے۔اور میری جہالت اور میرا میرے معاملات میں حد سے بڑھنا اور جس کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، ان سب کو بخش دے، اے میرے اللہ! جو کام میں نے سنجیدگی سے کیا ہواور جو میں نے دل لگی اور مذاق میں کیا ہےاور جو چوک اور قصدوارادہ سے کیا ہے ان سب کو معاف کردے، یہ سارے کام میں کر چکا ہوں، اے میرے اللہ! میری تقدیم و... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6901]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: آپ نے اس دعا میں ان تمام امور کو جمع فرمادیا ہے، جو ایک عام انسان کی زندگی میں پائے جاتے ہیں، اور ایک بشر وانسان کی حیثیت سے آپ سے سرزد ہو سکتے ہیں، لیکن آپ نے اپنے بلندو بالا مقام کی حیثیت سے یوں بیان کیا گیاہے، گویا کہ یہ امور آپ سے سرزد ہو چکے ہیں، تاکہ ہم اللہ کے حضور میں یہ دعا کرکے، معافی کے خواستگار ہوں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2719 سے ماخوذ ہے۔