حدیث نمبر: 2714
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ ، فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ وَلْيُسَمِّ اللَّهَ ، فَإِنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا خَلَفَهُ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، وَلْيَقُلْ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبِّي بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " ،

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر جگہ پکڑنا چاہے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصہ کو پکڑ کر، اس سے اپنے بستر کو جھاڑ لے اور اللہ کا نام لے۔کیونکہ اسے پتہ نہیں ہے اس کے بعد اس کے بستر پر کون اس کا جانشین بنا ہے اور جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹنے اور یہ دعا پڑھے۔"اے اللہ!پاک اور منزہ ہے اے میرے رب! تیری توفیق سےمیں نے اپنا پہلو رکھا اور تیری توفیق سے اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو میرے نفس کو روک لے، میری روح قبض کرلے تو اسے معاف فرمانا اور اگر تو اسے چھوڑدے (قبض نہ کرے) تو اس کی حفاظت فرمانا جس وسیلہ وقدرت سے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے:"

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : ثُمَّ لَيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي ، فَإِنْ أَحْيَيْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا .

عبدہ نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی اور کہا: ”پھر وہ یہ کہے: «باسمک ربي وضعت جنبی، وان احییت نفسي فارحمہا» تیرے نام سے اے پروردگار! میں نے اپنا پہلو ٹکایا، اگر تو نے میری جان کو زندہ کیا تو اس پر رحم فرما۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2714
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بستر پر جگہ پکڑنا چاہے تو اپنے تہ بند کے اندرونی حصہ کو پکڑ کر، اس سے اپنے بستر کو جھاڑ لے اور اللہ کا نام لے۔کیونکہ اسے پتہ نہیں ہے اس کے بعد اس کے بستر پر کون اس کا جانشین بنا ہے اور جب لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹنے اور یہ دعا پڑھے۔"اے اللہ!پاک اور منزہ ہے اے میرے رب! تیری توفیق سےمیں نے اپنا پہلو رکھا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6892]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کو بستر پر جانے سے پہلے اپنے بستر کو جھاڑلینا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے، اس کی عدم موجودگی میں اس پر کسی موزی جانور نے بسیرا کر لیا ہو، ظاہر ہے، یہ اس صورت میں ہے، جب وہاں اندھیرا اور تاریکی ہو، لیکن براہ راست ہاتھ سے نہ جھاڑے، تاکہ اگر کوئی موذی چیز ہو تو وہ اس کو کاٹ نہ لے، پھر دعا پڑھ کر سوئے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2714 سے ماخوذ ہے۔