حدیث نمبر: 2712
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَوَفَّاهَا لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا ، إِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا وَإِنْ أَمَتَّهَا فَاغْفِرْ لَهَا ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ عُمَرَ ؟ ، فَقَالَ : مِنْ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ سَمِعْتُ .

عقبہ بن مکرم اور ابوبکر بن نافع نے کہا: ہمیں غندر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خالد سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے ایک شخص سے کہا کہ جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یہ دعا کرے: «اللہم خلقت نفسی وانت توفیہا، لک مماتہا ومحیاہا، ان احییتہا فاحفظہا وان امتہا فاغفرلہا، اللہم انی اسألک العافیة» ”اے اللہ! میری جان کو تو نے پیدا کیا اور تو ہی اس کو موت دے گا، اس جان کی موت بھی اور زندگی بھی تیرے ہی لیے ہے، اگر تو اس کو زندہ رکھے تو اس کی حفاظت فرما اور اگر تو اس کو موت دے تو اس کی مغفرت کرنا، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت مانگتا ہوں۔“ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ان سے جو حضرت عمر سے زیادہ افضل ہیں (میں نے یہ حدیث) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (سنی ہے۔) ابن نافع نے اپنی روایت میں کہا: عبداللہ بن حارث سے روایت ہے، یہ نہیں کہا: میں نے سنا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2712
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں تو انہوں نے ایک آدمی کو فرمایا جب وہ اپنے بستر پر جائے تو یوں کہے۔ اے میرے اللہ! تونے ہی مجھے پیدا کیا ہے اور توہی جب چاہے گا۔ میری روح قبض کر لے گا۔میرا مرنا اور جینا تیرے ہی اختیار میں ہے، اگر تونے نفس کو (مجھے) زندہ رکھے تو(ہر گناہ و بلا سے اور ہر فتنہ و فساد سے) اس کی حفاظت فر اور اگر تو اس کو موت دے دے تو... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6888]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ دعا بھی عبدیت کے جذبات سے بھر پور ہے اور اللہ کے حضور میں عبدیت و نیاز مندی اور اظہار عاجزی و بے بسی ہے، سب سے زیادہ اس کی رحمت کو آواز دیتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2712 سے ماخوذ ہے۔