حدیث نمبر: 2710
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، وَاجْعَلْهُنَّ مِنْ آخِرِ كَلَامِكَ : فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ وَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، قَالَ : فَرَدَّدْتُهُنَّ لِأَسْتَذْكِرَهُنَّ ، فَقُلْتُ : آمَنْتُ بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، قَالَ : قُلْ : آمَنْتُ بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ،

منصور نے سعد بن عبیدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر جانے لگو تو اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کرو، پھر اپنی دائیں کروٹ لیٹو، پھر یہ کہو: «اللہم اسلمت وجہی الیک وفوضت امری الیک والجأت ظہری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سپرد کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی، یہ سب تیری طرف سے امید اور تیرے خوف کے ساتھ کیا۔ تیرے سوا تجھ سے نہ کہیں پناہ مل سکتی ہے، نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے مبعوث کیا۔ ان کلمات کو تم (اپنی زبان سے ادا ہونے والے) آخری کلمات بنا لو (ان کے بعد اور کچھ نہ بولو) تو اس رات اگر تمہیں موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ (حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان کلمات کو یاد کرنے کے لیے انہیں دہرایا تو کہا: ”میں تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یوں) کہو: میں تیرے نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنًا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، غَيْرَ أَنَّ مَنْصُورًا أَتَمُّ حَدِيثًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ ، وَإِنْ أَصْبَحَ أَصَابَ خَيْرًا .

حصین بن سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی، مگر منصور نے زیادہ مکمل حدیث بیان کی اور حصین کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”اگر یہ (کہنے والا) صبح کرے گا تو خیر حاصل کرے گا۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ، فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ مِنَ اللَّيْلِ ،

محمد بن مثنیٰ نے ابوداؤد سے اور ابن بشار نے عبدالرحمان اور ابوداؤد دونوں سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، وہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جب وہ رات کو اپنی خواب گاہ میں جانے لگے تو (دعا کرتے ہوئے) یہ کہے: «اللہم اسلمت نفسی الیک ووجہت وجہی الیک والجأت ظہری الیک وفوضت امری الیک رغبة و رہبة الیک لا ملجأ ولا منجا منک الا الیک، آمنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کر دی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کر لیا اور اپنی کمر تیرے سہارے پر ٹکا دی اور اپنا معاملہ تیرے حوالے کر دیا، یہ سب تجھی سے امید کرتے ہوئے اور تجھی سے ڈرتے ہوئے کیا۔ تجھ سے خوف کے سوا نہ پناہ کی کوئی جگہ ہے نہ نجات کی۔ میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا، پھر اگر (اس رات) اسے موت آ گئی تو فطرت پر موت آئے گی۔“ ابن بشار نے اپنی حدیث میں: ”رات کے وقت“ (بستر پر جانے لگے) کے الفاظ نہیں کہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ يَا فُلَانُ : إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ، وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا ،

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا:"اے فلاں جب تم اپنے بستر پر جانا چاہو۔"آگے بذکورہ بالا اس فرق کے ساتھ ہے، آپ نے فرمایا:"اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا، اگر تم اپنی اس رات فوت ہو گئے، فطرت پر فوت ہو گئے اور اگر صبح کرو گے تو خیر پاؤ گے۔"

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصَبْتَ خَيْرًا .

شعبہ نے ابواسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، اسی کے مانند، اور انہوں نے ”اگر تم نے (زندہ حالت میں) صبح کی تو خیر حاصل کرو گے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2710
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::"جب اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرو تو نماز والا وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاؤ، پھر یہ دعا پڑھو، اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیر ی طرف متوجہ کیا اور اپنے تمام امور تیرے حوالہ کر دئیے اور تجھ ہی کو اپنا پشت پناہ لیا، اپنی ٹیک تیری طرف لگا دی، تیرے رحم و کرم کی امید کرتے ہوئے اور تیرے جلال و عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیری گرفت سے بچنے کے لیے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6882]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس دعا میں اللہ پر اعتماد وتوکل، یقین اور تسلیم و تفویض کی روح بھری ہوئی ہے اور ایمان کی تجدید بھی ہے، اس لیے اس یقین و توکل پر فوت ہونا، اسلام پر مرنا ہے اور اس حدیث سے معلوم ہوا، بستر پر جانے سے پہلے نماز والا وضوکر لینا پسندیدہ عمل ہے، اس طرح انسان، طہارت جسمانی اور دعا کے ذریعہ طہارت قلبی کو حاصل کر کے، موت کے لیے تیار ہو کر سوتا ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول اور ادو وظائف اور دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ آپ کے الفاظ کے اندر جو تاثیر اور اسرار و خواص ہیں، کسی کے الفاظ اس کا بدل نہیں بن سکتے اور یہ بھی ممکن ہے، اس اجرو ثواب اور فضیلت کا تعلق، انھی الفاظ کے ساتھ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2710 سے ماخوذ ہے۔