حدیث نمبر: 2709
(حديث مرفوع) قَالَ يَعْقُوبُ وَقَالَ الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ ، قَالَ : " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ " ،

یعقوب نے کہا: قعقاع بن حکیم نے ذوان سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اللہ کے رسول! مجھے اس بچھو سے کتنی شدید تکلیف پہنچی جس نے کل رات مجھے کاٹ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے جب رات کی تھی، یہ (کلمات) کہہ دیتے: «اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق» میں ہر اس چیز کے شر سے جسے اللہ نے پیدا کیا، اس کے کامل ترین کلمات کی پناہ میں آتا ہوں تو وہ (بچھو) تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچاتا۔“

وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ .

لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے جعفر سے، انہوں نے یعقوب سے روایت کی، انہوں نے ان کو بتایا کہ غطفان کے آزاد کردہ غلام ابوصالح نے انہیں بتایا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بچھو نے کاٹ لیا۔ (آگے) ابن وہب کی حدیث کے مانند ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2709
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2922 | سنن ابي داود: 3899 | سنن ابن ماجه: 3518

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2922 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2922]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداؤد الاعمی ہے، جو متروک ہے، بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے، ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2922 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3518 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سانپ اور بچھو کے جھاڑ پھونک کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو بچھو نے ڈنک مار دیا تو وہ رات بھر نہیں سو سکا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ فلاں شخص کو بچھو نے ڈنک مار دیا ہے، اور وہ رات بھر نہیں سو سکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اگر وہ شام کے وقت ہی یہ دعا پڑھ لیتا «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» یعنی " میں اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کیا "، تو بچھو کا اسے ڈنک مارنا صبح تک ضرر نہ پہنچاتا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3518]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ کے کلمات سے مراد اس کا کلام، اس کے فیصلے اور قدرت ہے۔

(2)
انسانوں، جنوں، حیوانوں اور حشرات کے شر سے محفوظ رہنے کےلئے یہ ایک بہترین دعا ہے۔

(3)
یہ دعا صبح وشام پڑھنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3518 سے ماخوذ ہے۔