صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فِي التَّعَوُّذِ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَغَيْرِهِ: باب: بری قضا اور بدبختی سے پناہ مانگنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ ، وَمِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ ، وَمِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ، وَمِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ " ، قَالَ عَمْرٌ وَفِي حَدِيثِهِ : قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ أَنِّي زِدْتُ وَاحِدَةً مِنْهَا .عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے سمی نے ابوصالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کے حق میں برا ثابت ہونے والے فیصلے، بدبختی کے آ لینے، اپنی تکلیف پر دشمنوں کے خوش ہونے اور عاجز کر دینے والی آزمائش سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ عمرو نے اپنی حدیث (کی سند) میں کہا: سفیان نے کہا: مجھے شک ہے کہ (شاید) میں نے ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بڑھا دی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت مصیبت، بدبختی لاحق ہونے، بری تقدیر اور دشمنوں کی خوشی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الدعوات، حدیث: 6347)
تقدیر کا اچھا یا برا ہونا مخلوق کے اعتبار سے ہے کیونکہ خالق کا ہر کام خیر و برکت پر مبنی ہوتا ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان پر پیش کردہ آیات سے اس شخص کی تردید کی جو دعویٰ کرتا ہے کہ انسان اپنے فعل کا خود خالق ہے کیونکہ اگر برا کام انسان نے خود پیدا کیا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے پناہ مانگنے کا کیا فائدہ ہے۔
(فتح الباري: 625/11)
واللہ أعلم۔
اس حدیث کی تشریح حدیث: 6347 کے فوائد میں گزر چکی ہے، اسے ایک نظر دیکھ لیا جائے۔
(1)
یہ دعا بہت جامع ہے کیونکہ مکروہ چیز کا تعلق اگر دنیا سے ہو تو اسے سوء القضاء کا نام دیا جاتا ہے اور آخرت سے ہو تو یہ درك الشقاء ہے کیونکہ اصل شقاوت اور بدبختی تو آخرت کی بدبختی ہے، پھر اگر اس کا تعلق معاش سے ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں: اگر کسی غیر کی طرف سے ہو تو شماتة الأعداء اور اگر اپنی طرف سے ہو تو وہ جهد البلاء ہے۔
(عمدة القاري: 44/15) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے مقام پر چاروں کلمات تردد کے بغیر بیان کیے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سخت مصیبت، بدبختی کے لاحق ہونے، بری تقدیر اور دشمنوں کی خوشی سے اللہ کی پناہ مانگو۔
‘‘
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے پناہ مانگتے تھے: " شقاوت و بدبختی آ جانے سے، شماتت اعداء (یعنی دشمنوں کی مصیبت میں ہنسی)، بری تقدیر اور بری بلا سے۔" سفیان کہتے ہیں: ان میں کوئی تین باتیں تھیں، چوں کہ مجھے نہیں یاد ہے کہ ان میں سے کون سی ایک بات نہیں تھی اس لیے چار کا ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5493]
(2) تقدیر کا برا ہونا متعلقہ شخص کے لحاظ سے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ اور ہر قضا و قدردرست اور اچھا ہے۔ والشرُّ ليس إليكَ۔ اگرچہ ہم اس کی حقیقت کو نہ جان سکیں۔
(3) بری تقدیر سے بچاؤکی دعا کی جا سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مختارکل ہے۔ جب چاہے تقدیر بدل دے ﴿لا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ﴾ نیز دعا بھی اسباب میں سے ہے اور اسباب تقدیر کا حصہ ہیں۔ گویا تقدیر یوں تھی کہ یہ شخص دعا کرے گا اور اس سے سختی ڈال دی جائے گی‘ نیز دعا بھی عبادت ہے۔ ثواب تو ملے گا ہی۔ بندہ ہونے کے ناطے دعا کرنا ضروری ہے دعا سے انکار تکبر ہے۔
(4) شدید مصیبت اور آزمائش سے مراد وہ حالت ہے جس سے موت آسان معلوم ہو‘ جسمانی مصیبت ہو یا مالی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بری تقدیر، شماتت اعداء (دشمنوں کی مصیبت پر ہنسنے)، شقاوت بدبختی کے آنے اور بری بلا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5494]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آزمائشوں، بدنصیبی، بری تقدیر اور دشمنی سے ہر وقت محفوظ رہنے کی دعا مانگنی چاہیے، یہ وہ چیزیں ہیں جن میں انسان بے بس ہوتا ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ رابطے کو مضبوط کرنا چاہیے، اور عاجزی اختیار کر نی چاہیے تکبر وغیرہ سے کوسوں دور رہنا چاہیے۔