صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب فَضْلِ الاِجْتِمَاعِ عَلَى تِلاَوَةِ الْقُرْآنِ وَعَلَى الذِّكْرِ: باب: قرآن کی تلاوت اور ذکر کے لیے جمع ہونے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : مَا أَجْلَسَكُمْ ؟ ، قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ ، قَالَ : آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ ، قَالَ : أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا أَجْلَسَكُمْ " ، قَالُوا : جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ ، وَمَنَّ بِهِ عَلَيْنَا ، قَالَ : " آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ ؟ " ، قَالُوا : وَاللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ ؟ قَالَ : " أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ ، وَلَكِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ " .حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں ایک حلقے (والوں) کے پاس سے گزرے، انہوں نے کہا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے، انہوں نے کہا: دیکھو، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو، (اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا: ”تم کس غرض سے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
يباهي لكم: تمہاری تعریف و توصیف کر رہا ہے، تمہارے اعمال حسنہ فرشتوں کو بتا کر فخر و مباہات کا اظہار فرما رہا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، کسی کو اسلام و ہدایت کا نصیب ہو جانا، اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت پر موقوف ہے اور یہ اس کا احسان و انعام ہے اور اس کے اس انعام کو یاد کر کے اللہ کی حمدوثناء بیان کرنا یہ بھی اللہ کے ذکر میں داخل ہے اور اللہ کے کچھ بندوں کا کہیں اکٹھے بیٹھ کر اخلاص کے ساتھ اس کو یاد کرنا، اس کی باتیں کرنا، اس کی حمدوثناء کرنا، اللہ تعالیٰ کو بےحد پسند ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے تعریف و توصیف بیان کرتا ہے اور اپنی رضا مندی کا اظہار فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی توفیق و عنایت سے ہمیں بھی اپنے ان مخلص بندوں میں داخل فرمائے اور اپنی مغفرت، رحمت، سکینت اور رضا مندی سے نوازے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے حلقے کی طرف نکل کر آئے اور فرمایا: ” کیوں بیٹھے ہو؟ “ وہ بولے: ہم بیٹھے ہیں، اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اس کا شکر ادا کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے دین کی ہدایت بخشی اور آپ کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ نے فرمایا: ” اللہ کی قسم! ۲؎ تم اسی لیے بیٹھے ہو؟ “ وہ بولے: اللہ کی قسم! ہم اسی لیے بیٹھے ہیں، آپ نے فرمایا: ” سنو، میں نے تم سے قسم اس لیے نہی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5428]
(2) اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور عظمت و بزرگی بیان کرنے کے لیے مسجد انتہائی موزوں ومناسب جگہ ہوتی ہے۔ وہاں نہ تو خرید و فروخت جائز ہے اور نہ دیگر عام گپ شپ لگانا ہی درست ہے بلکہ وہاں اللہ کا ذکر اور اس کی تسبیح و تحمید ہی کی جانی مشروع ہے۔ انسان کو وہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات یاد کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
(3) مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بن کر رہے‘ ایک تو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور دوسرا اس لیے کہ اسے محمد رسول اللہ ﷺ کا امتی بنایا۔ اہل ایمان کے لیے اس سے بڑی عظمت اور اس سے بڑھ کر فخر کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ وہ ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ (اٰل عمران: 3:110) اور ﴿جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا﴾ (البقرة: 2:143) کا مصداق قرار پائے۔
(4) درس و تدریس اور وعظ وذکر کی مجالس یقینًا نہایت پسندیدہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر فخر کرتا ہے بدعی اور شرکیہ مجالس اس کے برعکس اللہ کی ناراضی کا باعث ہوں گی۔
(5) آپ کا مقصود یہ ہے کہ میں نے تمھارے فعل کی اہمیت کے پیش نظر تم سے قسم لی ہے‘ نہ کہ شک و شبہ کی بنا پر۔
(6) حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم لینی چاہیے اور صرف اتنا کافی ہے۔ بعض لوگ قسم کے الفاظ میں تغلیظ کے قائل ہیں‘ یعنی کہ ساتھ اللہ تعالیٰ کے اوصاف بھی ملائے جائیں تا کہ قسم کی عظمت جاگزین ہو جائے اور قسم کھانے والا جھوٹی قسم نہ کھائے۔ ظاہر ہے اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بھی وعظ کے قائم مقام ہے۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ مسجد گئے (وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے) پوچھا: تم لوگ کس لیے بیٹھے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم یہاں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرتے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: کیا! قسم اللہ کی! تم کو اسی چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، ہم اسی مقصد سے یہاں بیٹھے ہیں، معاویہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے تم لوگوں پر کسی تہمت کی بنا پر قسم نہیں کھلائی ہے ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے جیسا مقام و منزلت رکھنے والا کوئی شخص مجھ سے کم (ادب و احتیاط کے سبب) آپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3379]
وضاحت:
1؎:
یعنی: بات یہ نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کی ثقاہت کے بارے میں مطمئن نہیں ہوں اس لیے قسم کھلائی ہے، بلکہ خود آپﷺنے اسی طرح صحابہ سے قسم لیکر یہ حدیث بیان فرمائی تھی، اسی اتباع میں، میں نے بھی آپ لوگوں کو قسم کھلائی ہے، حدیثوں کی روایت کا یہ بھی ایک انداز ہے کہ نبی اکرمﷺ نے جس کیفیت کے ساتھ حدیث بیان کی ہوتی ہے، صحابہ سے لے کر اخیر سند تک کے سارے راوی اسی طرح روایت کرتے ہیں، اس سے حدیث کی صحت پر اور زیادہ یقین بڑھ جاتا ہے (اور خود آپﷺنے بھی کسی شک وشبہ کی بنا پران سے قسم نہیں لی تھی، بلکہ بیان کی جانے والی بات کی اہمیت جتانے کے لیے ایک اسلوب اختیارکیا تھا)