صحيح مسلم
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل
باب الاِسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبَرُّزِ: باب: پانی کے ساتھ استنجاء کرنا۔
حدیث نمبر: 270
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ حَائِطًا ، وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ هُوَ أَصْغَرُنَا ، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاء " .خالد (ھذاء) نے عطاء بن ابی میمونہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا، اس نے اسے ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے: ’’کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے، اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا، جس کے پاس وضو کا برتن تھا، اور وہ ہم سب سے چھوٹا تھا، تو اس نے اسے ایک بیری کے درخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کرکے ہمارے پاس تشریف لائے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:619]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
: (1)
حَائِطٌ: وہ باغ جس کے گرد دیوار ہو۔
(2)
مِيضَأَةٌ: وضو کرنے کا برتن (وضو کرنے کا آلہ)
۔
: (1)
حَائِطٌ: وہ باغ جس کے گرد دیوار ہو۔
(2)
مِيضَأَةٌ: وضو کرنے کا برتن (وضو کرنے کا آلہ)
۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 270 سے ماخوذ ہے۔