حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مِرَارٍ ، كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ أَرْبَعَةَ أَنْفُسٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ " ،

حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں جو انسان "لَا إِلَهَ إلا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ له‘ له الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وهو على كل شَيْءٍ قَدِيرٌ"دس دفعہ کہتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلام آزاد کرتا ہے۔"

وقَالَ سُلَيْمَانُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ : مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ، قَالَ : مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، فَقُلْتُ : مِمَّنْ سَمِعْتُهُ ؟ قَالَ : مِنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

شعبی نے ربیع بن خثیم سے اسی کے مانند روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ربیع سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: عمرو بن میمون سے، پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا، ان سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: ابن ابی لیلیٰ سے، کہا: تو میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا: آپ نے یہ (حدیث) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2693
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3469 | سنن ابي داود: 5091

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں جو انسان "لَا إِلَهَ إلا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ له‘ له الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وهو على كل شَيْءٍ قَدِيرٌ"دس دفعہ کہتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلام آزاد کرتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6844]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ حدیث بخاری شریف میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مرفوعا منقول ہے، لیکن اس میں ایک گردن کا ذکر ہے، مسند احمد میں چار کا ذکر ہے اور امام مسلم نے بھی آگے وضاحت کر دی ہے کہ عمرو بن میمون نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت ابو ایوب انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6844 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5091 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´صبح کے وقت کیا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
فوائد ومسائل:
صحیح مسلم کی روایت میں العظیم کا لفظ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2692)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5091 سے ماخوذ ہے۔