حدیث نمبر: 2689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا يَتَتَبَّعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا وَجَدُوا مَجْلِسًا فِيهِ ذِكْرٌ قَعَدُوا مَعَهُمْ ، وَحَفَّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِأَجْنِحَتِهِمْ حَتَّى يَمْلَئُوا مَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَإِذَا تَفَرَّقُوا عَرَجُوا وَصَعِدُوا إِلَى السَّمَاءِ ، قَالَ : فَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : جِئْنَا مِنْ عِنْدِ عِبَادٍ لَكَ فِي الْأَرْضِ يُسَبِّحُونَكَ ، وَيُكَبِّرُونَكَ ، وَيُهَلِّلُونَكَ ، وَيَحْمَدُونَكَ ، وَيَسْأَلُونَكَ ، قَالَ : وَمَاذَا يَسْأَلُونِي ؟ قَالُوا : يَسْأَلُونَكَ جَنَّتَكَ ، قَالَ : وَهَلْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا : لَا أَيْ رَبِّ ، قَالَ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا جَنَّتِي ؟ قَالُوا : وَيَسْتَجِيرُونَكَ ، قَالَ : وَمِمَّ يَسْتَجِيرُونَنِي ؟ قَالُوا : مِنْ نَارِكَ يَا رَبِّ ، قَالَ وَهَلْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْا نَارِي ؟ قَالُوا : وَيَسْتَغْفِرُونَكَ ، قَالَ ، فَيَقُولُ : قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ فَأَعْطَيْتُهُمْ مَا سَأَلُوا وَأَجَرْتُهُمْ مِمَّا اسْتَجَارُوا ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : رَبِّ فِيهِمْ فُلَانٌ عَبْدٌ خَطَّاءٌ إِنَّمَا مَرَّ فَجَلَسَ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَيَقُولُ : وَلَهُ غَفَرْتُ هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُمْ " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو (اللہ کی زمین میں) چکر لگاتے رہتے ہیں، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ کا) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان (کی وسعت کو) بھر دیتے ہیں۔ جب (مجلس میں شریک ہونے والے) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ (فرشتے) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں، کہا: تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں (رہنے والے) تیرے بندوں کی طرف سے (ہو کر) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ سے مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے۔ فرمایا: کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: پروردگار! (انہوں نے) نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! (کس الحاح و زاری سے مانگتے!) وہ کہتے ہیں: اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: تیری آگ (جہنم) سے، اے رب! فرمایا: کیا انہوں نے میری آگ (جہنم) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا: اے رب! نہیں (دیکھی)، فرمایا: اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو (ان کا کیا حال ہوتا!) وہ کہتے ہیں: وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے، تو وہ فرماتا ہے: میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: وہ (فرشتے) کہتے ہیں: پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا، سخت گناہ گار بندہ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: تو اللہ ارشاد فرماتا ہے: میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2689
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6408

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:"بے شک اللہ کے گشت کرنے والے فرشتے ہیں جو اور کام نہیں کرتے، وہ مجالس ذکر کو تلاش کرتے ہیں اور جب انہیں ذکر کی مجلس مل جاتی ہےجس میں ذکر الٰہی ہوتا ہے تو وہ اہل مجلس کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پروں سے ایک دوسرے کو ڈھانپ لیتے ہیں حتی کہ زمین کی مجلس سے لے کر آسمان دنیا تک جگہ بھر جاتی ہے اور جب اہل مجلس بکھر جاتے ہیں تو وہ اوپر چڑھ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6839]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
سيارة: گردش کرنے والے، بہت گھومنے والے، فضلاء: علماء نے اس کو پانچ طرح پڑھا ہے۔
(1)
فاء اور ضاد دونوں پر پیش ہے، بقول امام نووی یہی راجح ہے۔
(2)
فاء پر پیش ہے اور ضاد ساکن ہے اور بقول بعض یہی درست تر ہے۔
(3)
فاء پر زبر ہے اور ضاد ساکن ہے اور بقول قاضی عیاض جمہور اساتذہ بخاری اور مسلم میں اس طرح پڑھتے ہیں۔
(4)
فضل: فاء اور ضاد پر پیش ہے اور لام مرفوع ہے یعنی مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔
(5)
فضلاء ہے یعنی فاضل کی جمع ہے، پہلی چار صورتوں میں معنی ہو گا، وہ افراد و اشخاص کے ساتھ معین فرشتوں سے جدا صرف اسی کام پر مقرر ہیں کہ مجلس ذکر کو تلاش کریں۔
يتبعون: جستجو اور تلاش کرتے ہیں، حف بعضهم بعضا: اللہ کے ذکر کا نور اوپر کو چڑھتا جاتا ہے، اس طرح فرشتے اوپر تک ایک دوسرے کو گھیر لیتے ہیں۔
يستجيرون: وہ امان اور پناہ طلب کرتے ہیں، خطاء: بہت خطا کار۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، ایک جگہ بیٹھ کر تسبیح، تکبیر، تحمید اور تہلیل میں مشغول ہونا اور اللہ تعالیٰ سے جنت کی درخواست کرنا اور دوزخ سے پناہ طلب کرنا، اپنی حاجت کے حصول کا تیر بہدف نسخہ ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی انسان گزرتے گزرتے بھی ان لوگوں کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے تو وہ بھی محروم نہیں رہتا اور ایسی مجلس کو فرشتے آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے، یہ مجلس مبتدعانہ طورواطوار، ریاء و سمع اور خلاف شریعت امور سے پاک ہو اور مسنون اوراد، مسنون انداز میں پڑھے جائیں، اپنے خودساختہ الفاظ یا اپنے وضع کردہ طریقے نہ ہوں، مثلا صبح و شام کی نمازوں کے بعد سب کا بیٹھ کر اپنے اپنے طور پر ذکروفکر میں منہمک ہونا، جمعہ کے دن، امام کی آمد سے پہلے یا عصر کی نماز کے بعد ذکرواذکار پڑھنا، دعا اور تلاوت وغیرہ، میں مشغول رہنا اور اس کے حضور درخواست کرنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2689 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6408 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6408. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کے ذکر میں مصروف پالیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں: آؤ تمہارا مطلب حل ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ اپنے پروں کے ذریعے سے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کا رب عزوجل ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری کبریائی بیان کرتے ہیں۔ تیری حمد وثنا کرتے ہیں اور تیری زندگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں پھر اللہ ان سے پوچھتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں؛ نہیں اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالٰی فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6408]
حدیث حاشیہ: مجالس ذکر سے قرآن وحدیث کا پڑھنا پڑھانا۔
قرآن وحدیث کی مجالس وعظ منعقد کرنا بھی مراد ہے قرآن پاک خود ذکر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6408 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6408 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6408. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو اہل ذکر کو تلاش کرتے ہوئے راستوں میں چکر لگاتے رہتے ہیں۔ جب وہ کچھ لوگوں کو اللہ کے ذکر میں مصروف پالیتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں: آؤ تمہارا مطلب حل ہوگیا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ اپنے پروں کے ذریعے سے انہیں گھیر لیتے ہیں اور آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان کا رب عزوجل ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں خوب جانتا ہے: میرے بندے کیا کہتے ہیں؟ وہ عرض کرتے ہیں: وہ تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری کبریائی بیان کرتے ہیں۔ تیری حمد وثنا کرتے ہیں اور تیری زندگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں پھر اللہ ان سے پوچھتا ہے: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں؛ نہیں اللہ کی قسم! انہوں نے تجھے نہیں دیکھا۔ اس پر اللہ تعالٰی فرماتا ہے: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو پھر ان کی کیفیت کیسی ہو؟ وہ عرض کرتے ہیں:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6408]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں نے انہیں بخش دیا، انہوں نے جو مانگا میں نے دے دیا اور انہوں نے جس چیز سے پناہ طلب کی، میں نے انہیں اس سے پناہ دے دی۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6839 (2689) (2)
اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت بڑی فضیلت ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم نشین تھے۔
صحبت کی عظیم تاثیر ہے کہ نیک لوگوں کے ہم نشین بھی نیک بخت ہوتے ہیں، لہذا ہمیں چاہیے کہ نیک اور صالح لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔
(3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے ان زندیقوں کی تردید ہوتی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں علانیہ طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ تم اپنے رب کو مرتے دم تک نہیں دیکھ سکتے۔
(مسند أحمد: 324/5، و صحیح الجامع الصغیر، حدیث: 2312، و فتح الباري: 256/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6408 سے ماخوذ ہے۔