حدیث نمبر: 2684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : " لَيْسَ كَذَلِكِ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ،

خالد بن حارث بجیمی نے کہا: ہمیں سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے، اللہ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔“ میں نے کہا: اللہ کے نبی! کیا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ہم میں سے ہر شخص (طبیعتاً) موت کو ناپسند کرتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات نہیں ہے، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس (ناشکرے اور متکبر) سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔“

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

محمد بن بکر نے کہا: ہمیں سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ " ،

علی بن مسہر نے زکریا سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے شریح بن بانی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے۔“ (ملاقات کا معاملہ اس کے بعد آئے گا۔)

حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : بِمِثْلِهِ .

عیسیٰ بن یونس نے کہا: ہمیں زکریا نے عامر (شعبی) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے شریح بن بانی نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسی (گزشتہ روایت) کے مانند۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2684
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1837 | سنن نسائي: 1838 | سنن ترمذي: 1066 | سنن ترمذي: 2309

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1838 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے محبت کرنے والے کا بیان۔`
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1838]
1838۔ اردو حاشیہ: موت اگرچہ اذیت ناک چیز ہے مگر مومن کے لی اللہ تعالیٰ کے دیدار اور ملاقات کا شوق اور بخشش و رحمت کی بشارت موت کی سختی پر غالب آ جاتی ہے اور کافر کے لیے موت کی اذیت کے علاوہ عذاب و سزا کا تصور بڑا دہشت ناک بن جاتا ہے، لہٰذا وہ موت کے وقت بھی مرنا نہیں چاہتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1838 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2309 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جس نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے ملاقات کو پسند کیا۔`
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2309]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
نسائی کتاب الجنائز باب رقم 10، حدیث رقم 1838 میں ہے: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ یہ موت کے وقت کا معاملہ ہے جب بینائی چھن جائے، جاں کنی کا عالم ہو اور رونگٹے کھڑے ہوجائیں تو جس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دی جائے اس وقت جو اللہ سے ملنا چاہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہے گا اور جس کو اللہ کے عذاب کی وارننگ دی جائے وہ اللہ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ بھی اس سے ملنا ناپسندکرے گا، یعنی مومن کو اللہ سے ملنے میں خوشی اورکافرکوگھبراہٹ اورڈرلاحق ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2309 سے ماخوذ ہے۔