حدیث نمبر: 2680
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ مُتَمَنِّيًا ، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي ، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي " ،

عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان (مصیبت) کی وجہ سے، جو اس پر نازل ہو، موت کی تمنا نہ کرے۔ اگر اس نے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے: اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو۔“

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ " .

ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے کہا: ”کسی نقصان کی وجہ سے جو اسے پہنچے۔“ (نازل ہو نہیں کہا۔)

حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَنَسٌ يومئذ حي ، قَالَ أَنَسٌ : لَوْلَا أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُهُ " .

عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے۔ (نضر نے) کہا: انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے“ تو میں موت کی تمنا کرتا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار / حدیث: 2680
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سے کوئی پیش آمدہ تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا ہر گز نہ کرے، سوا اگر وہ کوئی ایسی دعا کے لیے مضطرہو، اس کے بغیر چارہ نہ پائے تو یوں کہے، اے اللہ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے۔ مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو دنیا سے مجھے اٹھالے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6814]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس قسم کی حدیثوں میں درحقیقت اس موت کی تمنا اور آرزو سے ممانعت فرمائی گئی ہے، جو کسی دنیوی تکلیف اور پریشانی سے تنگ آ کر کی جاتی ہے، کیونکہ یہ صبر و شکیب کی صفت کے خلاف ہے، نیز جب تک آدمی زندہ ہے، اس کے لیے توبہ و استغفار کر کے اپنے دامن کو صاف کرنے کا اور حسنات و طاعات کے ذریعہ اپنے ذخیرہ آخرت میں اضافہ اور اللہ تعالیٰ کا مزید تقرب حاصل کرنے کا موقع موجود ہے اور دنیوی مصائب اور مشکلات اس کے لیے کفارہ سیئات بنتی ہیں اور موت کی دعا کر کے اس موقعہ کو گنوانا ہے، جو بندہ کے لیے خسارہ ہی خسارہ ہے، ہاں اگر دینی طور پر فتنہ و فساد کا اندیشہ ہے اور دینی خسارے کا ڈر ہے تو پھر موت کی دعا کرنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6814 سے ماخوذ ہے۔