صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب الْعَزْمِ بِالدُّعَاءِ وَلاَ يَقُلْ إِنْ شِئْتَ: باب: یوں دعا کرنا منع ہے کہ اگر تو چاہے تو بخش مجھ کو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ وَلْيُعَظِّمْ الرَّغْبَةَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَتَعَاظَمُهُ شَيْءٌ أَعْطَاهُ " .علاء کے والد (عبدالرحمان) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ فِي الدُّعَاءِ ، فَإِنَّ اللَّهَ صَانِعٌ مَا شَاءَ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما۔ وہ دعا میں پختگی اور قطعیت سے کام لے کیونکہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے، کوئی نہیں جو اسے مجبور کر سکے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس عقیدہ کےساتھ کہ اللہ تعالیٰ ضرور وہ دعا قبول کرے گا۔
جلدی یا تاخیر ممکن ہے مگر دعا ضرور رنگ لا کر رہےگی جیسا کہ روز مرہ کے مجربات ہیں۔
بندہ مسلم کو چاہیے کہ وہ دعا پورے وثوق اور یقین سے مانگے۔
اس عقیدے کے ساتھ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول کرے گا۔
جلدی یا دیر ممکن ہے لیکن اندھیر نہیں دعا اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔
دعا کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلق نہ کیا جائے۔
یعنی یوں نہ کہا جائے کہ اگر تو چاہتا ہے تو قبول کر لے۔
ایسا کرنے سے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ مشیت کے بغیر اس کا عطا کرنا ممکن ہے حالانکہ مشیت کے بغیر تو جبر ہی ہے اور اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر نہیں کر سکتا۔
مشیت کا استعمال وہاں ہوتا ہے جسے کسی کام پر مجبور کیا جا سکتا ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا کرتے وقت یوں نہ کہا جائے اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما دے۔
انسان کو چاہیے کہ پورے عزم وثوق کے ساتھ دعا کرے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
اسے کوئی بھی کسی کام پر مجبور نہیں کر سکتا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6813۔
(2679)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح کی مشروط دعا اس لیے نا پسند ہے کہ اس میں دعا کرنے والے کی اپنی مطلوبہ چیز بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے بے پروائی کی بو آتی ہے۔
(فتح الباري: 557/13)
1)
دعا کرتے وقت مسکینی اور عاجزی کا اظہار ہونا چاہیے، نیز اللہ تعالیٰ سے مکمل یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
دعا کرتے وقت یہ نہ کہا جائے کہ اللہ اگر تو چاہے تو دے دے بلکہ یہ کہے کہ یا اللہ! تجھی سے لینا ہے کیونکہ انسان تو اللہ تعالیٰ کے حضور فقیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مالک دو جہاں ہے، اس کے خزانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہے، اس لیے یقین کے ساتھ سوال کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ پر زبردستی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
(2)
بہرحال دعا مانگنے کا یہ ادب ہے کہ پوری دل جمعی، نہایت خشوع و خضوع اور قبولیت کے یقین کامل کے ساتھ دعا کی جائے۔
واللہ أعلم
دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف رکھنے سے منع کیا گیا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں:۔
مشیت پر موقوف رکھنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اسے چاہت کے بغیر مجبور کیا جا سکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ تصور درست نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اسے کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔
۔
اس انداز سے دعا کرنا گویا مطلوب اور مطلوب منہ سے بے پروائی ظاہر ہوتی ہے، لہذا دعا کرتے وقت مشیت الٰہی پر موقوف رکھنے کی بجائے پورے عزم کے ساتھ دعا کرنی چاہیے۔
سوال میں پختگی کا مطلب یہ ہے کہ طلب میں شدت ہو، اس میں کسی قسم کی لچک کا اظہار نہ ہو اور نہ اپنے سوال کو مشیت پر موقوف رکھا جائے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 291/2)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " (کوئی شخص دعا مانگے تو) اس طرح نہ کہے: " اے اللہ! تو چاہے تو ہمیں بخش دے، اے اللہ! تو چاہے تو ہم پر رحم فرما " ۱؎ بلکہ زور دار طریقے سے مانگے، اس لیے کہ اللہ کو کوئی مجبور کرنے والا تو ہے نہیں (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے)، [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3497]
وضاحت:
1؎:
یعنی شبہہ اور تذبذب والی اور ڈھیلے پن کی بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے عزم، پختہ ارادے، اور اپنی پوری کوشش کے ساتھ دعا مانگے جیسے مجھے یہ چاہیے، مجھے یہ دے، مجھے تو بس تجھی سے مانگنا ہے اور تجھ ہی سے پانا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1483]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔" [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3854]
فوائد و مسائل:
(1)
اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی امید رکھتے ہوئے اپنی حاجت طلب کرنی چاہیے۔
(2)
یہ کہنا کہ ’’اگر تو چاہے‘‘ اللہ کے شایان شان نہیں، اس لیے ناپسندیدہ ہے کیونکہ سب کچھ دینے والا تو وہی ایک ہے اس سے تو اس عزم کے ساتھ مانگنا چاہیے کہ اگر تو میری دعا قبول نہیں کرے گا تو میرا تو تیر ے سوا اور کوئی در ہی نہیں ہے، میں تیرا در چھوڑ کر کہاں جاؤں؟ بہرحال ایسے الفاظ نا پسندیدہ ہیں جن میں یقین کی بجائے مایوسی کا اظہار ہو۔
(3)
یہ دعا کرنا درست ہے کہ اگر فلاں چیز میرے لیے بہتر ہے تو مجھے عطا فرما دے ورنہ وہ چیز عطا فرما دے جو میرے لیے بہتر ہو۔
دعائے استخارہ میں یہی دعا کی جاتی ہے۔
«. . . 336- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يقولن أحدكم: اللهم اغفر لي إن شئت، اللهم ارحمني إن شئت؛ ليعزم المسألة، فإنه لا مكره له." . . .»
". . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی آدمی بھی (دعا کے وقت) یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر۔ تاکید کے ساتھ (اللہ سے) سوال کرنا چاہئیے کیونکہ اسے مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔" . . ." [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 449]
[وأخرجه البخاري 6339، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ دعا صرف اللہ سے مانگنی چاہئے۔
➋ اللہ تعالیٰ سے اس جذبے کے ساتھ بطور جزم دعا مانگنی چاہئے کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ضرور دعا قبول فرمائے گا۔