صحيح مسلم
كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار— ذکر الہی، دعا، توبہ، اور استغفار
باب الْحَثِّ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى: باب: جو شخص اچھی بات جاری کرے یا بری بات جاری کرے۔
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ ، فَمَرَّ عَلَى جَبَلٍ يُقَالُ لَهُ جُمْدَانُ ، فَقَالَ : " سِيرُوا هَذَا جُمْدَانُ سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " ، قَالُوا : وَمَا الْمُفَرِّدُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتُ " .حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے، آپ نے فرمایا: ”چلتے رہو، یہ جمدان ہے۔ مفردون (لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے) بازی لے گئے۔“ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے (مرد) اور اللہ کو یاد کرنے والی (عورتیں)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے راستہ پر چلے جارہے تھے کہ آپ کا جُمدان نامی پہاڑ پر گزرہوا تو آپ نے فرمایا:"چلتے رہو۔یہ جُمدان ہے، الگ تھلگ رہ جانے والے (مُفَرِدون)سبقت لے گئے" ساتھیوں نے پوچھا:(مُفَرِدُونَ)سےکیا مُرادہے؟اے اللہ کےرسول(صلی اللہ علیہ وسلم)!آپ نے فرمایا:"اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرداور بہت یاد کرنے والی عورتیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6808]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مُفرِد یا مُفرِد سے وہ انسان مراد ہے، جس کے ساتھی اور ہم جولی مر گئے ہیں اور وہ اکیلا الگ تھلگ رہ گیا ہے اور اَفرد الرجل، اس وقت کہتے ہیں، جب وہ سوجھ بوجھ کے بعد الگ تھلگ ہو کر اوامرونواہی کے امتثال و پابندی کے لیے یکسو ہو جائے تو معنی ہوا جو لوگ خلوت نشینی اختیار کرتے ہوئے لوگوں کی مجالس سے بچ کر ذکر الٰہی میں وقت صرف کرتے ہیں، وہ مرد ہوں یا عورت، وہ اجروثواب کی بازی جیت گئے اور اللہ کی قبولیت و رضا کے بڑے مراتب و درجات حاصل کر گئے اور بہت آگے بڑھ گئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6808 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3596 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دنیا و آخرت میں عافیت طلبی کا بیان`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے "، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3596]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے "، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ ہلکے پھلکے لوگ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ کی یاد و ذکر میں ڈوبے رہنے والے لوگ، ذکر ان کا بوجھ ان کے اوپر سے اتار کر رکھ دے گا اور قیامت کے دن ہلکے پھلکے آئیں گے۔" [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3596]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’عمر بن راشد‘‘ ضعیف ہیں)
نوٹ:
(سند میں ’’عمر بن راشد‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3596 سے ماخوذ ہے۔