صحيح مسلم
كتاب العلم— علم کا بیان
باب رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ: باب: آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا " .حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:"اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ لوگوں کے دلوں سے چھین لے، لیکن وہ علماء کو قبض (فوت) کر کے علم قبض فرمائے گا، حتی کہ جب وہ کسی عالم کو نہیں چھوڑے گا، لوگ جاہلوں کو رئیس (امیر) بنا لیں گے، ان سے دریافت کیا جائے گا،چنانچہ وہ علم کے بغیر فتوی (جواب) دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔"
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وعبدة . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍ وَعَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ، فَسَأَلْتُهُ فَرَدَّ عَلَيْنَا الْحَدِيثَ ، كَمَا حَدَّثَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ .حماد بن زید، عباد بن عباد، ابومعاویہ، وکیع، ابن ادریس، ابواسامہ، ابن نمیر، عبدہ، سفیان (بن عیینہ)، یحییٰ بن سعید، عمر بن علی اور شعبہ بن حجاج، سب نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی روایت کردہ حدیث کے مطابق روایت کی اور عمر بن علی کی حدیث میں مزید یہ ہے: پھر میں ایک سال بعد حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث مجھے دوبارہ اسی طرح سنائی جیسے (پہلے) بیان کی تھی۔ کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي جَعْفَرٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ .جعفر نے عمر بن حکم سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ حَدَّثَهُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَارٌّ بِنَا إِلَى الْحَجِّ ، فَالْقَهُ فَسَائِلْهُ ، فَإِنَّهُ قَدْ حَمَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا كَثِيرًا ، قَالَ : فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ عَنْ أَشْيَاءَ يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عُرْوَةُ : فَكَانَ فِيمَا ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ ، فَيَرْفَعُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ وَيُبْقِي فِي النَّاسِ رُءُوسًا جُهَّالًا يُفْتُونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ، فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ " ، قَالَ عُرْوَةُ : فَلَمَّا حَدَّثْتُ عَائِشَةَ بِذَلِكَ ، أَعْظَمَتْ ذَلِكَ وَأَنْكَرَتْهُ ، قَالَتْ : أَحَدَّثَكَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ هَذَا ، قَالَ عُرْوَةُ : حَتَّى إِذَا كَانَ قَابِلٌ ؟ قَالَتْ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عَمْرٍ وَقَدْ قَدِمَ ، فَالْقَهُ ثُمَّ فَاتِحْهُ ، حَتَّى تَسْأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَكَرَهُ لَكَ فِي الْعِلْمِ ، قَالَ : فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ ، فَذَكَرَهُ لِي نَحْوَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ فِي مَرَّتِهِ الْأُولَى ، قَالَ عُرْوَةُ : فَلَمَّا أَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ ، قَالَتْ : مَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ .عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے ابوشریح نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابواسود نے عروہ بن زبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: بھانجے! مجھے خبر ملی ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں (مدینہ) سے گزر کر حج پر جانے والے ہیں۔ تم ان سے ملو اور ان سے سوال کرو۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا علم حاصل کر کے محفوظ کر رکھا ہے۔ (عروہ نے) کہا: میں ان سے ملا اور بہت سی چیزوں کے بارے میں، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، ان سے پوچھا۔ عروہ نے کہا: انہوں نے جو کچھ بیان کیا اس میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں سے یک لخت چھین نہیں لے گا بلکہ وہ علماء کو اٹھا لے گا اور ان کے ساتھ علم کو بھی اٹھا لے گا۔ اور لوگوں میں جاہل سربراہوں کو باقی چھوڑ دے گا جو علم کے بغیر لوگوں کو فتوے دیں گے، اس طرح خود بھی گمراہ ہوں گے اور (لوگوں کو بھی) گمراہ کریں گے۔“ عروہ نے کہا: جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسے ایک بہت بڑی بات سمجھا اور اس کو غیر معروف (ناقابل قبول) قرار دیا۔ اور فرمایا: کیا انہوں نے تمہیں بتایا تھا کہ انہوں نے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ نے یہ بات کہی تھی؟ عروہ نے کہا: یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے ان سے کہا: (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ہیں، ان سے ملو، ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرو، یہاں تک کہ ان سے اسی حدیث کے بارے میں پوچھو جو انہوں نے علم کے حوالے سے تمہیں بیان کی تھی۔ (عروہ نے) کہا: میں ان سے ملا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث میرے سامنے (بالکل) اسی طرح بیان کر دی جس طرح پہلی بار بیان کی تھی۔ عروہ نے کہا: جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: میں سمجھتی ہوں کہ انہوں نے سچ کہا، میں دیکھ رہی ہوں کہ انہوں نے اس میں نہ کوئی چیز بڑھائی ہے نہ کم کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
اس حدیث میں اس قسم کے قیاس اور رائے کی مذمت کی گئی ہے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
ہماری فقہ میں سینکڑوں ایسے ساختہ مسائل موجود ہیں جو کتاب وسنت سے ٹکراتے ہیں اور واضح طور پر اس کے خلاف ہیں۔
اسی طرح رائے مذموم کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اصحاب رائے سے بچا کرو کیونکہ وہ سنتوں کے دشمن ہیں احادیث کو یاد رکھنے سے ان کی ہمتیں جواب دے گئیں تو انھوں نے رائے عقل اور قیاس سے کام لینا شروع کردیا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہی کے راستے پر لگادیا۔
(شرح أصول اعتقاد أھل السنة: 136/1)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
علماء کے رخصت ہونے کے بعد قحط رجال کا دور ہوگا پھر ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی معاملات کو قیاس اور رائے سے حل کریں گے اس طرح وہ عمارت اسلام کو زمین بوس کرنے کا باعث ہوں گے۔
(فتح المنان: 216/2)
2۔
بہر حال ان بزرگوں نے جس رائے اور قیاس کی مذمت کی ہے اس سے مراد وہ رائے ہے جو کتاب وسنت سے اخذ نہ کی گئی ہو۔
بلا شبہ نص کے ہوتے ہوئے رائے اور قیاس سے کام لینا بہت بڑی گمراہی ہے۔
(فتح الباري: 354/13)
بہر حال اگر کسی کو کتاب وسنت میں کسی مسئلے کے متعلق کوئی دلیل نہ مل سکے تو بھی انسان کو احتیاط کرنی چاہیے۔
رائے زنی سے بچتے ہوئے اس پیش آنے والے مسئلے جیسے دوسرے مسئلوں پر غور کرے اور ان کی روشنی میں پیش آنے والے مسئلے کا حق تلاش کرے۔
واللہ أعلم۔
«. . . سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ (پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ: 100]
پختہ عالم جو دین کی پوری سمجھ بھی رکھتے ہوں اور احکام اسلام کے دقائق و مواقع کو بھی جانتے ہوں، ایسے پختہ دماغ علماء ختم ہو جائیں گے اور سطحی لوگ مدعیان علم باقی رہ جائیں گے جو ناسمجھی کی وجہ سے محض تقلید جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور ایسے لوگ اپنے غلط فتووں سے خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔ یہ ابوعبداللہ محمد بن یوسف بن مطر فربری کی روایت ہے جو حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور صحیح بخاری کے اولین راوی یہی فربری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ بعض روایتوں میں «بغير علم» کی جگہ «برايهم» بھی آیا ہے۔ یعنی وہ جاہل مدعیان علم اپنی رائے قیاس سے فتویٰ دیا کریں گے۔ «قال العيني لايختص هذا بالمفتيين بل عام للقضاة الجاهلين» یعنی اس حکم میں نہ صرف مفتی بلکہ عالم جاہل قاضی بھی داخل ہیں۔
اللہ تعالیٰ علوم و فنون کو سینوں سے محو کر دینے پر قادر ہے لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا۔
بلکہ قبض علم کی یہ صورت ہو گی کہ خود علماء ختم ہو جائیں گے اور دوسرے علماء پیدا نہ ہوں گے۔
اس حدیث میں علم کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے۔
ہر عالم کا فریضہ ہے کہ اپنے بعد کچھ علماء چھوڑے، بصورت دیگر جہلا علماء کی جگہ بیٹھیں گے اور گمراہی پھیلائیں گے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم حدیث کی بنیاد پر فتوی دینا ہی حقیقی ریاست ہے۔
(فتح الباري: 258/1)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، اگر کسی ایک فاضل اور فقیہ اور مزاج رسول کی شناسائی رکھنے والے کو کسی حدیث کا علم نہیں ہے تو اس کو اس بات کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ یہ حدیث ہی نہیں ہے، نیز کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی درایت و عقل پر بھی کسی حدیث کو نہیں پرکھا جا سکتا کہ اس کی عقل و درایت میں یہ حدیث نہ آتی ہو تو اس کا انکار کر دیا جائے، جیسا کہ آج کل یہ فتنہ پھیل رہا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بعض وجوہ کی بنا پر، اس حدیث کو بڑا خیال کرتے ہوئے انکار کرتی ہیں اور پوچھتی ہیں، کیا واقعی انہوں نے اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی تھی، کہیں انہوں نے اہل کتاب کی کتب سے تو نقل نہیں کیا، یا تم نے تو نسبت کرنے میں غلطی نہیں کی، حالانکہ یہ روایت صحیح ہے۔
(2)
اگلے سال جب حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، مصر سے حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور عروہ بن زبیر بھی وہاں موجود تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کے مطابق عروہ رحمہ اللہ نے پھر حضرت عبداللہ سے یہ حدیث پوچھی اور انہوں نے بلا کم و کاست بیان کر دی، جو اس بات کی دلیل ہے، صحابہ کرام احادیث کے بیان کرنے میں انتہائی حزم و احتیاط سے کام لیتے تھے اور انہیں یاد رکھتے تھے اور اس بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یقین ہو گیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو آپ کی طرف نسبت کرنے میں وہم لاحق نہیں ہوا۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 52]
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمان شرعی علوم سے یک بارگی محروم نہیں ہوں گے بلکہ بتدریج یہ نوبت آئے گی کہ معاشرے سے علماء ختم ہو جائیں گے، اس طرح شرعی علوم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔
(2)
اس خطرناک صورت حال سے حتی الامکان محفوظ رہنے کے لیے مسلمان معاشرے کا فرض ہے کہ وہ شرعی علوم کے ماہر علماء پیدا کرے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔
(3)
عالم کا فرض ہے کہ وہ علم یعنی قرآن و حدیث کی روشنی میں فتوی دے، محض اپنی رائے اور قیاس پر اعتماد کرتے ہوئے فتوی نہ دے۔
(4)
شرعی دلائل کو نظر انداز کرتے ہوئے محض عقل کی روشنی میں شرعی مسائل پر رائے دینے کی کوشش گمراہی ہے جس کے نتیجے میں عوام میں بھی گمراہی پھیلتی ہے۔
(5)
نصوص پر عقلی دلائل کو ترجیح دینے سے شریعت کی اہمیت کم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں طرح طرح کے فتنے پھیلتے ہیں۔
ماضی میں خوارج، معتزلہ اور دیگر گمراہ فرقوں کے وجود میں آنے کا باعث بھی یہی تھا اور دور حاضر میں بھی عقل ہی کے نام سے طرح طرح کے فتنے پیدا ہو رہے ہیں۔
ان کا علاج یہی ہے کہ قرآن و حدیث کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے اور ہر پیش آمدہ مسئلے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح موقف کو واضح کیا جائے۔
«. . . وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فضلوا وأضلوا» . . .»
”. . . سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (آخر زمانے میں) اس طرح علم نہیں نکالے گا کہ بندوں کے دل و دماغ سے نکال ڈالے بلکہ علماء (حقانی) کے اٹھانے سے علم کو اٹھا لے گا۔ جبکہ کوئی عالم باعمل باقی نہیں رہے گا۔ تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے ان سے دینی فتوی دریافت کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوی کا جواب دیں گے جس سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔“ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 206]
[صحيح بخاري 100]، [صحيح مسلم 6796]
فقہ الحدیث:
➊ قرآن و حدیث کے مقابلے میں رائے سے فتویٰ دینا حرام ہے۔
➋ کتاب وسنت کا وجود قیامت تک رہے گا لیکن علمائے حق میں عام طور پر کمی آتی رہے گی۔
➌ صحیح بخاری کی ایک روایت میں «فيفتون برأيهم» (پس وہ اپنی رائے سے فتوے دیں گے) کے الفاظ آتے ہیں۔ [كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ح7307]
یعنی وہ لوگ اپنی رائے سے فتویٰ دیں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کے مقابلے میں رائے سے فتویٰ دینا حرام ہے اور قیامت سے پہلے ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی رائے سے قرآن و حدیث کے خلاف فتوے دیتے رہیں گے۔
➍ تقلید شخصی بدعت ہے اور کتاب و سنت کے مقابلے میں تقلید کرنا حرام ہے۔
➎ گمراہوں سے بچنا ضروری ہے ورنہ آخرت برباد ہو جائے گی۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اہل علم کا وجود ایک بہت بڑی نعمت ہے، ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے، ان کی قدر کرنی چاہیے علم کے صحیح اہل علماء کرام ہی ہوتے ہیں، جب یہ فوت ہو جاتے ہیں تو گویا ہم علم کے سمندروں سے محروم ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھی اہل علم کی وفات کے ساتھ علم کو کم کرتے رہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کتنی محنت کے ساتھ کوئی اہل علم علم کا شہسوار بنتا ہے، ایک امت اس سے فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے لیکن جب وہ اہل علم فوت ہو جاتا ہے تو اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح امت کو بہت بڑا نقصان ہو گیا ہو، اور لوگ تبصرہ بھی کرتے ہیں کہ اب کس سے دینی رہنمائی لیں گے۔
راقم کی زندگی میں چند محدثین فوت ہوئے جن کے فوت ہونے سے علمی دنیا میں بہت بڑا خلاء محسوس کیا گیا، مثلاً محدث العصر شیخ الحدیث خاتمة الحفاظ حافظ عبدالمنان نورپوری، محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، دکتورعبدالرشید اظہر، امام العصر محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ وغیرہ۔
جب صحیح اہل علم فوت ہو جاتے ہیں تو ان کے پیچھے کم پڑھے لکھے اہل علم رہ جاتے ہیں، جو لوگوں کو غلط فتویٰ دیتے ہیں، گویا وہ خود بھی گمراہ ہیں اور لوگوں کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دین کی سمجھ بوجھ کے لیے ہر دور میں ایک جماعت ہونی چاہیے، جو لوگوں کی صحیح رہنمائی کرتی رہے، فتویٰ بڑی محنت کے بعد قرآن و حدیث کے مطابق دینا چاہیے۔