صحيح مسلم
كتاب العلم— علم کا بیان
باب رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ: باب: آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کی علامت میں سے ہے علم اٹھالیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی،شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو گا۔"
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " .شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان نہ کروں؟ یہ حدیث میرے بعد تم کو کوئی ایسا شخص نہیں بیان کرے گا جس نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (براہ راست) سنی ہو: ”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت نمایاں ہو جائے گی، زنا پھیل جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد رخصت ہو جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے معاملات کا نگران ایک رہ جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ ، وَعَبْدَةَ : لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .محمد بن بشر، عبدہ اور ابواسامہ، ان سب نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابن بشر اور عبدہ کی حدیث میں ہے: میرے بعد یہ حدیث تمہیں کوئی نہیں سنائے گا۔ میں نے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، پھر اسی (شعبہ کی حدیث) کے مانند بیان کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: " سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔