حدیث نمبر: 2671
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کی علامت میں سے ہے علم اٹھالیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی،شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو گا۔"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتَ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعَهُ مِنْهُ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ ، وَتَبْقَى النِّسَاءُ ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ " .

شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان نہ کروں؟ یہ حدیث میرے بعد تم کو کوئی ایسا شخص نہیں بیان کرے گا جس نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (براہ راست) سنی ہو: ”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت نمایاں ہو جائے گی، زنا پھیل جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد رخصت ہو جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتوں کے معاملات کا نگران ایک رہ جائے گا۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بِشْرٍ ، وَعَبْدَةَ : لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

محمد بن بشر، عبدہ اور ابواسامہ، ان سب نے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابن بشر اور عبدہ کی حدیث میں ہے: میرے بعد یہ حدیث تمہیں کوئی نہیں سنائے گا۔ میں نے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، پھر اسی (شعبہ کی حدیث) کے مانند بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العلم / حدیث: 2671
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4608

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت کی علامت میں سے ہے علم اٹھالیا جائے گا، جہالت پھیل جائے گی،شراب پی جائے گی اور زنا عام ہو گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6785]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: علم اٹھنے اور جہالت کے جمنے یا پھیلنے سے مراد یہ ہے کہ علم دین میں رسول ختم ہو جائے گا، آہستہ آہستہ پختہ کار اور باعمل علماء اٹھ جائیں گے اور ان کی جگہ کم علم، بدعمل افراد آ جائیں گے، جنہیں دینی مسائل کی واقفیت کم ہو گی، بدعملی زیادہ ہو گی اور انہی کو لوگوں میں عزت و شرف حاصل ہو گا اور اس کا آغاز عرصہ دراز سے شروع ہو چکا ہے، قاضی عیاض م 544ھ نے اپنے دور کے علماء کے بارے میں یہی لکھا ہے کہ ہمارے دور میں اس کا مصداق ظاہر ہو گیا ہے، کیونکہ اب لوگوں نے جہلاء کو امیر بنا لیا ہے اور وہ اللہ کے دین میں اپنی رائے سے فتویٰ دے رہے ہیں اور اپنی رائے سے حکم لگا رہے ہیں، آج کاغذی علم عام ہو گیا ہے، کتابیں دن بہ دن نئی نئی آ رہی ہیں، لیکن ان کو پڑھنے والے اور سمجھنے والے دن بہ دن کم ہو رہے ہیں، دنیوی علوم کے مقابلہ میں دینی علوم کی کوئی اہمیت نہیں رہی، سکولوں اور کالجوں میں تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے اور دینی طلبہ کی کمی ہو رہی ہے، شراب، زنا عام ہے اور فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے، علانیہ فسق و فجور کا ارتکاب ہو رہا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6785 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4608 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سنت کی پیروی ضروری ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: " سنو، بہت زیادہ بحث و تکرار کرنے اور جھگڑنے والے ہلاک ہو گئے ۱؎۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4608]
فوائد ومسائل:
قرآن وحدیث کے عام فہم معنی پر عمل کرنا واجب ہے۔
بال کی کھال اتارنا اور دور دراز کی کوڑیاں لانا اور لا یعنی تکلفات میں پڑنا یا دوسروں کو اس میں مبتلا کرنا دین نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4608 سے ماخوذ ہے۔