صحيح مسلم
كتاب العلم— علم کا بیان
باب هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ: باب: تشدد کرنے والوں کے ہلاک ہونے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 2670
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَيَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُونَ ، قَالَهَا ثَلَاثًا " .حضرت عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بال کی کھال اتارنے والے تباہ ہوئے۔"آپ نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ(بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بال کی کھال اتارنے والے تباہ ہوئے۔"آپ نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6784]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
المتنطعون: غلو اور انتہائی پسندی اختیار کرنے والے، بال کی کھال اتارنے والے، کیونکہ تنطع کا معنی غلو اور تعمق ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، بے مقصد اور بے فائدہ موشگافیاں کرنا اور حد سے بڑھنا پسندیدہ طرزعمل نہیں ہے، کیونکہ یہ بدعملی اور راہ فرار اختیار کرنے یا بہانہ سازی کا باعث بنتا ہے، جس طرح بنو اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے پوچھا، اس کی عمر کتنی ہو، جب یہ بتا دیا گیا تو کہا، اس کا رنگ کیسا ہو، یہ بتا دیا گیا تو کہنے لگے اور وضاحت کرو، کیونکہ ایسی گائیوں میں اشتباہ و التباس موجود ہے، لیکن ورع اور پرہیزگاری اختیار کرنا اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کی کوشش کرنا مطلوب ہے، مثلا ایک کپڑا صاف ستھرا ہے اور ابھی بھی طے کر کے رکھا گیا ہے اور دوسرے کپڑے کے بارے میں شبہ ہے، اس پر کسی بچے کے بول کے چھینٹے پڑ گئے ہیں لیکن اس کو دھو دیا گیا ہے تو دوسرے کپڑے کی بجائے پہلا کپڑا لینا یہ غلو اور انتہا پسندی ہے۔
لیکن اگر کپڑا پاک صاف ہے اور دوسرے کپڑے کو گارا لگا ہے تو پہلے کپڑے کو لینا ورع اور پرہیزگاری ہے۔
المتنطعون: غلو اور انتہائی پسندی اختیار کرنے والے، بال کی کھال اتارنے والے، کیونکہ تنطع کا معنی غلو اور تعمق ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، بے مقصد اور بے فائدہ موشگافیاں کرنا اور حد سے بڑھنا پسندیدہ طرزعمل نہیں ہے، کیونکہ یہ بدعملی اور راہ فرار اختیار کرنے یا بہانہ سازی کا باعث بنتا ہے، جس طرح بنو اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے پوچھا، اس کی عمر کتنی ہو، جب یہ بتا دیا گیا تو کہا، اس کا رنگ کیسا ہو، یہ بتا دیا گیا تو کہنے لگے اور وضاحت کرو، کیونکہ ایسی گائیوں میں اشتباہ و التباس موجود ہے، لیکن ورع اور پرہیزگاری اختیار کرنا اور مشتبہ چیزوں سے بچنے کی کوشش کرنا مطلوب ہے، مثلا ایک کپڑا صاف ستھرا ہے اور ابھی بھی طے کر کے رکھا گیا ہے اور دوسرے کپڑے کے بارے میں شبہ ہے، اس پر کسی بچے کے بول کے چھینٹے پڑ گئے ہیں لیکن اس کو دھو دیا گیا ہے تو دوسرے کپڑے کی بجائے پہلا کپڑا لینا یہ غلو اور انتہا پسندی ہے۔
لیکن اگر کپڑا پاک صاف ہے اور دوسرے کپڑے کو گارا لگا ہے تو پہلے کپڑے کو لینا ورع اور پرہیزگاری ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6784 سے ماخوذ ہے۔