حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو قُدَامَةَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَقُومُوا " .

حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قرآن پڑھو جب تک تمھارے دل اس پر جڑے رہیں اور جب تم میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔"

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا " .

ہمام نے کہا: ہمیں ابوعمران نے حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر ایک دوسرے کے ساتھ موافقت اور مطابقت کرتے رہیں، چنانچہ جب تمہارا اختلاف شروع ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔“

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، قَالَ : قَالَ لَنَا جُنْدَبٌ وَنَحْنُ غِلْمَانٌ بِالْكُوفَةِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْرَءُوا الْقُرْآنَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا .

ابو عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں بتایا، جبکہ ہم کوفہ میں بچے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب العلم / حدیث: 2667
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قرآن پڑھو جب تک تمھارے دل اس پر جڑے رہیں اور جب تم میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اٹھ جاؤ۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6777]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر اس حدیث کا مخاطب ہر انسان انفرادی اور شخصی طور پر ہے تو معنی ہو گا، جب تک ہمارے دل اور زبان میں موافقت، یکسانیت ہو اور تمہیں جمعیت خاطر اور اطمینان حاصل ہو، قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور جب دل اور زبان کا ساتھ نہ رہے، دل پڑھنا نہ چاہے، زبان سے غلط لفظ ادا ہونے لگیں اور طبیعت اُکتا جائے تو تلاوت بند کر دو اور اگر مخاطب مختلف افراد ہوں، جو باہمی مذاکرہ کر رہے ہوں تو پھر معنی ہو گا، جب قرآن مجید کے معانی اور مطالب میں اختلاف پیدا ہو جائے، شکوک و شبہات بڑھنے لگیں اور باہمی دنگا اور فساد کا اندیشہ پیدا ہو جائے اور گروہ بندی یا دھڑے بندی پیدا ہونے لگے تو پھر مذاکرہ ختم کر دو، یا قراءت کے بارے میں تنازع شروع ہو جائے تو پھر اس سے باز آ جاؤ اور بکھر جاؤ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2667 سے ماخوذ ہے۔