صحيح مسلم
كتاب القدر— تقدیر کا بیان
باب مَعْنَى كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ: باب: ہر بچہ کے فطرت پر پیدا ہونے کے معنی اور کفار کے بچوں اور مسلمانوں کے بچوں کی موت کا حکم کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَ صَبِيٌّ ؟ فَقُلْتُ : طُوبَى لَهُ عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوَ لَا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ وَخَلَقَ النَّارَ ، فَخَلَقَ لِهَذِهِ أَهْلًا ، وَلِهَذِهِ أَهْلًا " .فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا: اس کے لیے خوشخبری ہو، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ : دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنَازَةِ صَبِيٍّ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ وَلَمْ يُدْرِكْهُ ؟ قَالَ : أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ ، " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا ، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ " .وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کے لیے خوشخبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی گناہ کیا، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي . ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي ، بِإِسْنَادِ وَكِيعٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ .امام صاحب یہی روایت اپنے تین اور اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں۔