حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كلاهما ، عَنْ الْمُقْرِئِ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ " .

حیوہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوہانی نے بتایا، انہوں نے ابوعبدالرحمان حبلی سے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بنی آدم کے سارے دل ایک دل کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے اسے (ان سب کو) گھماتا ہے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2654
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مشكوة المصابيح: 89

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،"بنو آدم کے تمام قلوب رحمن کی انگلیوں میں سے، دو انگلیوں کے درمیان ہیں، ایک دل کی طرح وہ اسے جیسے چاہے پھیر دیتا ہے "پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی،"اے اللہ! دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل، اپنی اطاعت و بندگی کی طرف پھیردے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6750]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، انسانوں کے عمل اللہ تعالیٰ کے اختیار اور اس کے قبضہ میں ہیں، وہی جدھر چاہے، انہیں پھیر دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتا ہے، ہر انسان سے وہ وہی سلوک کرتا ہے، ادھر ہی اس کا دل موڑتا ہے، جس کا وہ اہل ہوتا ہے، وہ انسانوں سے فضل و رحمت کا سلوک تو کرتا ہے، کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی اور ناانصافی نہیں کرتا اور اللہ کی انگلیوں سے مراد، وہ انگلیاں ہیں، جو اس کی شان خالقیت کے لائق ہیں، ان کی کیفیت و حقیقت کو جاننا ممکن نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2654 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 89 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´انسان کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان`
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُول إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلِّهَا بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ من أَصَابِع الرَّحْمَن كقلب وَاحِد يصرفهُ حَيْثُ يَشَاءُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الله مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ» . رَوَاهُ مُسلم . . .»
. . . سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام انسانوں کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہے، ایک دل کی طرح جس طرح چاہتا ہے الٹ پھیر کرتا رہتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ «الله مصرف القلوب صرف قلوبنا على طاعتك» اے دلوں کے پھیرنے والے اللہ! تو ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف پھیر دے۔ یعنی تو اپنی اطاعت کی ہمیں توفیق دے۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 89]
تخریج:
[صحیح مسلم 6750]

فقہ الحدیث:
➊ دلوں کو اللہ ہی نیکی یا بدی کی طرف پھیرتا ہے اور وہ بندوں کے افعال کا خالق ہے۔
➋ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اور انگلیاں اس کی صفت ہے، جو اس کی شان کے لائق ہے اور مخلوق سے قطعا مشابہ نہیں ہے۔ اس صفت کا انکار کرنا یا اسے مخلوق سے تشبیہ دینا دونوں طرح باطل ہے اور یہ گمراہ لوگوں کا عقیدہ ہے، بلکہ صحیح عقیدہ صرف یہی ہے کہ قرآن و حدیث میں مذکور تمام صفات باری تعالیٰ پر تمثیل، تعطیل اور تکییف کے بغیر ایمان لایا جائے۔ «ليس كمثله شيء وهو السميع البصير»
➌ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ ہی کے حکم، ارادے اور مشیئت سے ہو رہا ہے۔
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 89 سے ماخوذ ہے۔