صحيح مسلم
كتاب القدر— تقدیر کا بیان
باب كَيْفِيَّةِ الْخَلْقِ الآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ: باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ : " أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ ، وَمَضَى عَلَيْهِمْ مِنْ قَدَرِ مَا سَبَقَ ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقُلْتُ : بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ : أَفَلَا يَكُونُ ظُلْمًا ؟ قَالَ : فَفَزِعْتُ مِنْ ذَلِكَ فَزَعًا شَدِيدًا ، وَقُلْتُ : كُلُّ شَيْءٍ خَلْقُ اللَّهِ وَمِلْكُ يَدِهِ فَلَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ ، فَقَالَ لِي : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، إِنِّي لَمْ أُرِدْ بِمَا سَأَلْتُكَ إِلَّا لِأَحْزِرَ عَقْلَكَ ، إِنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ مِنْ قَدَرٍ قَدْ سَبَقَ ؟ أَوْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ : لَا ، بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا { 7 } فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا { 8 } سورة الشمس آية 7-8 " .یحییٰ بن یعمر نے ابواسود دیلی سے روایت کی، کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو عمل لوگ آج کر رہے ہیں اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے ہی سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکا ہے یا وہ نئے سرے سے ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت قائم ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا: بلکہ جس طرح ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کا سلسلہ ان میں جاری ہے۔ (دیلی نے) کہا: تو (عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو کیا یہ ظلم نہیں؟ (دیلی نے) کہا: تو اس بات پر میں سخت خوفزدہ اور پریشان ہو گیا اور میں نے کہا: ہر چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کی ملکیت ہے۔ جو بھی وہ کرے اس سے پوچھا نہیں جا سکتا اور وہ (اس کے مملوک بندے) جو کریں ان سے پوچھا جا سکتا ہے۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ تم پر رحم کرے! میں نے جو تم سے پوچھا صرف اسی لیے پوچھا تھا تاکہ تمہاری عقل کا امتحان لوں۔ مزینہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ کس طرح دیکھتے ہیں، لوگ جو عمل آج کر رہے اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں کوئی ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکی ہے یا وہ اب ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے، جس طرح اسے ان کے رسول ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت تمام ہوئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں طے ہو گئی ہے اور ان میں جاری ہو چکی، اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے: ’’اور نفس انسانی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کو ٹھیک بنایا! پھر اس کو اس کی بدی بھی الہام کر دی اور نیکی بھی۔‘‘“
تشریح، فوائد و مسائل
یہ دونوں احادیث اوبرگزرچکی ہیں۔
یہاں لفظ تیسیر کی مناسبت سے ان کو لائے۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو لازم ہے کہ نیک کاموں کی کوشش کرے اور اللہ سے جنتی ہونے کی دعا بھی کرے کیونکہ دعا سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور دعا کرنا بھی تقدیر سے ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل فیصلہ وہی ہوتا ہے جو قضا و قدر انسان کے متعلق کر چکی ہے، باقی رہے ہمارے ظاہری اعمال تو وہ انسان کے اچھے اور برے ہونے کی صرف ظاہری نشانیاں ہیں۔
اچھے اعمال سے حسن خاتمہ کی امید اور برے اعمال سے برے خاتمے کا اندیشہ ضرور ہوتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔
(2)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! لوگ جو آج عمل کر رہے ہیں اور اس کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اور پہلے سے جو تقدیر ہے وہ نافذ ہو چکی ہے یا وہ اس چیز کی طرف جا رہے ہیں جو ان کے نبی ان کے پاس لے کر آئے اور ان کے خلاف حجت قائم کی؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا ان کے متعلق فیصلہ ہو چکا ہے اور تقدیر ان کے متعلق نافذ ہو چکی ہے اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے: ’’اور نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے درست کیا! پھر بدکاری اور پرہیزگاری (دونوں)
کی اسے سمجھ عطا کی۔
‘‘ (الشمس 7/91، 8، و صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6739 (2650) (3)
واضح رہے کہ اس معنی کی دیگر احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لیے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
بہرحال ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک اعمال کی کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے جنتی ہونے کی دعا کرتا رہے۔
واللہ المستعان
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں " اس نے کہا: پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں؟ آپ نے فرمایا: " ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4709]
اس حدیث میں تقدیرکو صراحتًا (اللہ کا) علم قراردیا گیا ہے، اس معنی کی احادیث میں اہل خیر کو ایک حد تک خیر کی بشارت اور امید دلائی گئی ہے اور دوسروں کے لئے تنبیہ اور توبہ کی دعوت ہے۔
«. . . وَعَن عمرَان بن حضين: إِن رجلَيْنِ من مزينة أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ الْيَوْمَ وَيَكْدَحُونَ فِيهِ أَشِيءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فيهم من قدر قد سَبَقَ أَوْ فِيمَا يَسْتَقْبِلُونَ بِهِ مِمَّا أَتَاهُمْ بِهِ نَبِيُّهُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَيْءٌ قُضِيَ عَلَيْهِمْ وَمَضَى فِيهِمْ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَنَفْسٍ وَمَا سواهَا فألهمها فجورها وتقواها) رَوَاهُ مُسلم . . .»
". . . سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مزینہ قبیلہ کے دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ یہ فرمائیے جو کچھ آج کل لوگ کام کرتے ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں محنت و مشقت کرتے ہیں، کیا وہ ایسی چیز ہے جو ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اور ان کی تقدیر میں گزر چکی ہے یعنی جو کچھ لوگ کرتے ہیں یہ سب پہلے تقدیر میں لکھا جا چکا ہے یا آئندہ وہ چیز ہونے والی ہے جن کو ان کا نبی لایا ہے اور ان پر حجت و دلیل ثابت ہو چکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نہیں! اس کا فیصلہ ہو چکا اور یہ چیز ان پر گزر چکی ہے اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے «ونفس وما سواها ٭فألهمها فجورها وتقواها» الایۃ یعنی قسم ہے جان کی اور اس کے بنانے والے کی، پھر اس کے دل میں بھلائی و برائی ڈال دی ہے۔" اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ . . ." [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 87]
[صحيح مسلم 6739]
فقہ الحدیث:
➊ معلوم ہوا کہ تقدیر پہلے سے مقرر شدہ ہے اور انسان مجبور محض نہیں، بلکہ اپنے اعمال میں خود مختار ہے۔
➋ حدیث اور قرآن ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔