حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ ، فَأَتَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : وَكَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ بِغَيْرِ عَمَلٍ ؟ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ ، وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً ، بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهَا مَلَكًا ، فَصَوَّرَهَا ، وَخَلَقَ سَمْعَهَا ، وَبَصَرَهَا ، وَجِلْدَهَا ، وَلَحْمَهَا ، وَعِظَامَهَا ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَجَلُهُ ؟ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ رِزْقُهُ ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ ، وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ ، فَلَا يَزِيدُ عَلَى مَا أُمِرَ وَلَا يَنْقُصُ " .

عمرو بن حارث نے ابوزبیر علی سے روایت کی کہ حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں (تھا تو اللہ کے علم کے مطابق) بدبخت تھا اور سعادت مند وہ ہے جو اپنے علاوہ دوسرے سے نصیحت حاصل کرے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص آئے جنہیں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں (عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ) نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یہ حدیث سنائی اور (ان سے پوچھنے کے لیے) کہا: وہ شخص کوئی عمل کیے بغیر بدبخت کیسے ہو جاتا ہے؟ تو اس (عامر) کو آدمی (حذیفہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: کیا آپ اس پر تعجب کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب نطفے پر (تیسرے مرحلے کی) بیالیس راتیں گزر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان، آنکھیں، کھال، گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے، پھر کہتا ہے: اے میرے رب! یہ مرد ہو گا کہ عورت؟ پھر تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! اس کی مدت حیات (کتنی ہو گی؟) پھر تمہارا رب جو اس کی تقدیر ہوتی ہے، بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر وہ (فرشتہ) کہتا ہے: اے میرے رب! اس کا رزق (کتنا ہو گا؟) تو تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے، پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں صحیفہ لے کر نکل جاتا ہے، چنانچہ وہ شخص کسی معاملے میں نہ اس سے بڑھتا ہے، نہ کم ہوتا ہے۔“

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ .

امام صاحب ایک اور استاد سے،عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔"

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ حَدَّثَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ ، يَقُولُ : " إِنَّ النُّطْفَةَ تَقَعُ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ يَتَصَوَّرُ عَلَيْهَا الْمَلَكُ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَسِبْتُهُ ، قَالَ : الَّذِي يَخْلُقُهَا ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَوْ أُنْثَى ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ أَسَوِيٌّ ، أَوْ غَيْرُ سَوِيٍّ ؟ فَيَجْعَلُهُ اللَّهُ سَوِيًّا ، أَوْ غَيْرَ سَوِيٍّ ، ثُمَّ يَقُولُ : يَا رَبِّ ، مَا رِزْقُهُ ، مَا أَجَلُهُ ، مَا خُلُقُهُ ؟ ثُمَّ يَجْعَلُهُ اللَّهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا " .

یحییٰ بن ابوبکیر نے کہا: ہمیں ابوخیثمہ زہیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن عطاء نے حدیث بیان کی، انہیں عکرمہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں ابوسریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”نطفہ (اصل میں تین مرحلوں میں چالیس) چالیس راتیں رحم مادر میں رہتا ہے، پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے۔“ زہیر نے کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: (فرشتہ) اسے بتایا ہے: ”تو وہ کہتا ہے: اے میرے رب! عورت ہو گی یا مرد ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ بتا دیتا ہے، وہ (فرشتہ) پھر کہتا ہے: اے میرے رب! مکمل (پورے اعضاء والا ہے) یا غیر مکمل؟ پھر اللہ تعالیٰ مکمل یا غیر مکمل ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ بتا دیتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے پروردگار! اس کا رزق کتنا ہو گا؟ اس کی مدت حیات کتنی ہو گی؟ اس کا اخلاق کیسا ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کے بارے میں بھی (جو طے ہو چکا) بتا دیتا ہے۔“

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ كُلْثُومٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلْثُومٌ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ مَلَكًا مُوَكَّلًا بِالرَّحِمِ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَخْلُقَ شَيْئًا بِإِذْنِ اللَّهِ لِبِضْعٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .

کلثوم نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی: ”تخلیق کے دوران رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جب اللہ تعالیٰ اپنے اذن سے کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو چالیس اور کچھ اوپر راتیں گزرنے کے بعد“ پھر ان سب کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب القدر / حدیث: 2645
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عامر بن واثلہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے سنا، بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوا اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے سبق و عبرت حاصل کرے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ساتھی خذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نامی صحابی کے پاس آیا۔ چنانچہ انہیں حضرت مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول سنایا اور پوچھا عمل کے بغیر انسان کیسے بد بخت ہو سکتا ہے؟ تو انھوں نے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6726]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کی تصویر کشی کا آغاز، نطفہ کے علقہ میں بدلنے کے آغاز سے ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ تدریجا اس خاکہ میں رنگ بھرنا شروع ہوتا ہے اور نوک پلک چار ماہ گزرنے کے بعد سنوارے جاتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید کی (سورہ مومنون آیت 1413)
۔
سے ثابت ہوتا ہے، کہ نطفہ سے علقہ بنتا ہے، پھر اس سے مضغہ بنتا ہے، پھر مضغہ سے ہڈیاں بنتی ہیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھایا جاتا ہے، پھر اس کو ایک نئی تخلیق میں پیدا کیا جاتا ہے، یعنی گوشت پوست چڑھانے کے بعد روح پھونکی جاتی ہے اور ان مراحل کی تفصیل حضرت عبداللہ بن حدیث میں گزر چکی ہے، اس طرح اس حدیث سے حضرت عبداللہ کی روایت کی تائید ہوتی ہے کہ چار باتوں کی مکمل تحریر کا وقت چار ماہ کے بعد آتا ہے، جب انسان کا مکمل ڈھانچہ بن چکا ہوتا ہے اور قرآن مجید سے بھی حضرت عبداللہ کی روایت کی تصدیق ہوتی ہے اور اجمالی حدیث کا معنی، تفصیلی حدیث کے مطابق ہی لیا جائے گا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تائید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2645 سے ماخوذ ہے۔