صحيح مسلم
كتاب القدر— تقدیر کا بیان
باب كَيْفِيَّةِ الْخَلْقِ الآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ: باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَدْخُلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ بِأَرْبَعِينَ ، أَوْ خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، فَيَقُولُ يَا رَبِّ : أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ؟ فَيُكْتَبَانِ ، فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ : أَذَكَرٌ ، أَوْ أُنْثَى ؟ فَيُكْتَبَانِ ، وَيُكْتَبُ عَمَلُهُ ، وَأَثَرُهُ ، وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ ، ثُمَّ تُطْوَى الصُّحُفُ ، فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " .عمرو بن دینار نے ابوطفیل (عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی (مرفوع بیان کی)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نطفہ (چالیس چالیس دنوں کے دو مرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے میں) چالیس یا پینتالیس راتیں رحم میں ٹھہرا رہتا ہے تو (اللہ کا مقرر کیا ہوا) فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے: اے رب! یہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ہو گا؟ تو دونوں (باتوں میں سے اللہ کو بتائے اس) کو لکھ لیا جاتا ہے، پھر کہتا ہے: اے رب! یہ مرد ہے یا عورت؟ پھر دونوں (میں سے جو اللہ بتائے اس) کو لکھ لیا جاتا ہے، پھر اس کا عمل، اس کے قدموں کے نشانات، اس کی مدت عمر اور اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے، پھر (اندراج کے) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، پھر ان میں کوئی چیز نہ بڑھائی جاتی ہے، نہ کم کی جاتی ہے۔“