صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب إِذَا أُثْنِيَ عَلَى الصَّالِحِ فَهِيَ بُشْرَى وَلاَ تَضُرُّهُ: باب: نیک آدمی کی تعریف دنیا میں اس کو خوشی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " . ححماد بن زید نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے۔“
َدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ، عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَد ، وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ : وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ ، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ .وکیع، محمد بن جعفر، عبدالصمد اور نضر سب نے شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران جونی سے حماد بن زید کی سند کے ساتھ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر شعبہ سے عبدالصمد کے سوا (باقی) سب کی حدیث میں ہے: ”اور لوگ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔“ اور عبدالصمد کی حدیث میں ہے: ”اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں“ جس طرح حماد نے کہا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
کا عکس ہے اور اللہ کے ہاں اس کی قبولیت اور رضا مندی کی دلیل ہے، لیکن یہ تب ہے جب وہ اس کا خواہاں اور طالب نہیں ہے اور اس کے لیے کوشش اور حیلہ نہیں کرتا۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تو مومن کے لیے نقد (جلد ملنے والی) خوشخبری (بشارت) ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4225]
فوائدومسائل: (1)
نیکی کرتے ہوئے یہ نیت نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سے تعریف اور عزت ہو۔
لیکن مومن کو دنیا میں بھی نیکی کا انعام ملتا ہے اور اسے عزت حاصل ہوتی ہے۔
(2)
عوام کی محبت نیک مومن پر اللہ کا احسان ہے لہٰذا اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور احتیاط کرنی چاہیے کہ دل میں فخر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہ ہوں۔