حدیث نمبر: 2642
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَي ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ " . ح

حماد بن زید نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اچھے کام کرتا ہے اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے۔“

َدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ كُلُّهُمْ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، بِإِسْنَادِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ، عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَد ، وَيُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ : وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ ، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ .

وکیع، محمد بن جعفر، عبدالصمد اور نضر سب نے شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران جونی سے حماد بن زید کی سند کے ساتھ، اسی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر شعبہ سے عبدالصمد کے سوا (باقی) سب کی حدیث میں ہے: ”اور لوگ اس کی وجہ سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔“ اور عبدالصمد کی حدیث میں ہے: ”اور لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں“ جس طرح حماد نے کہا ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2642
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4225

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، بتائیے ایک آدمی نیک کام کرتا ہے اور اس پر لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:"یہ مومن کے لیے فوری بشارت ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6721]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، کسی نیک انسان کے نیک اور اچھے کام پر لوگوں کا اس کی تعریف و توصیف کرنا اخروی بشارت ہے، بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ (سورۃ الحدید آیت نمبر 12)
کا عکس ہے اور اللہ کے ہاں اس کی قبولیت اور رضا مندی کی دلیل ہے، لیکن یہ تب ہے جب وہ اس کا خواہاں اور طالب نہیں ہے اور اس کے لیے کوشش اور حیلہ نہیں کرتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2642 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4225 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ایک شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی کام کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ سے لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو مومن کے لیے نقد (جلد ملنے والی) خوشخبری (بشارت) ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4225]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل: (1)
نیکی کرتے ہوئے یہ نیت نہیں ہونی چاہیے کہ اس کی وجہ سے تعریف اور عزت ہو۔
لیکن مومن کو دنیا میں بھی نیکی کا انعام ملتا ہے اور اسے عزت حاصل ہوتی ہے۔

(2)
عوام کی محبت نیک مومن پر اللہ کا احسان ہے لہٰذا اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور احتیاط کرنی چاہیے کہ دل میں فخر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4225 سے ماخوذ ہے۔