حدیث نمبر: 2640
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ " .

حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھنے لگا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا اور ابھی تک ان جیسے عمل نہیں کر سکا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انسان کا انجام انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ محبت کرتا ہے۔"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

شعبہ اور سلیمان بن قرم نے سلیمان (اعمش) سے، انہوں نے ابووائل سے، انہوں نے عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2640
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھنے لگا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا اس آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا اور ابھی تک ان جیسے عمل نہیں کر سکا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"انسان کا انجام انہیں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ محبت کرتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6718]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ سوال کرنے والے مختلف صحابہ کرام، ابو موسیٰ، صفوان بن قدامہ اور ابوذر رضی اللہ عنہم وغیرہم ہیں۔
(فتح الباری ج، بحوالہ تکملہ ج 5 ص 465)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6718 سے ماخوذ ہے۔