مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2638
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"روح جمع کیے گئے لشکر ہیں جن میں معرفت جان پہچان پیدا ہوگئی وہ باہم جڑ گئے، ان میں الفت پیدا ہوگئی اور جن میں اجنبیت رہی ان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔"

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، بِحَدِيثٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ ، إِذَا فَقُهُوا وَالْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ " .

یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً حدیث بیان کی، کہا: ”لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں (ایک جیسی صفات کی بنا پر) ایک دوسرے کو پہچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو (صفات کے اختلاف کی بنا پر) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں، وہ باہم مختلف ہو گئیں۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2638
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"روح جمع کیے گئے لشکر ہیں جن میں معرفت جان پہچان پیدا ہوگئی وہ باہم جڑ گئے، ان میں الفت پیدا ہوگئی اور جن میں اجنبیت رہی ان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6708]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اللہ تعالیٰ نے ارواح کو مختلف انواع و اقسام میں پیدا کیا ہے اور ہر نوع و قسم کی صفات و خصوصیات الگ الگ ہیں، اس لیے جن کی صفات و خصوصیات میں یکسانیت اور موافقت ہے، دنیا میں ان میں باہمی الفت و محبت رہتی ہے اور جن کی صفات الگ الگ اور جدا جدا ہیں ان میں دنیا میں جسموں میں آ کر بھی الفت و محبت پیدا نہیں ہوتی، وہ الگ الگ ہی رہتی ہیں، اس لیے اگر نیک کردار اور اچھے اخلاق کے لوگوں میں باہمی نفرت پیدا ہو جائے تو انہیں سبب نفرت کو معلوم کر کے، اس نفرت کو ختم کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2638 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔