صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا ، أَمَرَ جِبْرَئِيلَ فَأَحَبَّهُ وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْآرْضِ باب: جب اللہ کریم کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بھی اس سے محبت رکھنے کا حکم کرتے ہیں اور آسمان کے فرشتے بھی اس سے محبت کر تے ہیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَيَقُولُ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے جبریل ؑ کو طلب کر کے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو،چنانچہ جبریل ؑ اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ ا للہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، سو آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کے لیے قبولیت رکھدی جاتی ہے اور جب وہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے جبریل کو طلب کر کے فرماتا ہے، میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو، چنانچہ جبریل ؑ اس سے بغض رکھتا ہے تو پھر آسمان والوں میں اعلان کرتا ہے، اللہ فلاں سے بغض رکھتا ہے تو بھی اس سے بغض رکھو تو وہ اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین والوں میں بغض رکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ . ح وحَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْبُغْضِ .عبدالعزیز دراوردی، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے (صرف محبت کرنے کی بات ہے۔)
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : كُنَّا بِعَرَفَةَ ، فَمَرَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ عَلَى الْمَوْسِمِ ، فَقَامَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ ، إِنِّي أَرَى اللَّهَ يُحِبُّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ : لِمَا لَهُ مِنَ الْحُبِّ فِي قُلُوبِ النَّاسِ ، فَقَالَ : بِأَبِيكَ أَنْتَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ .عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ ماجشون نے سہیل سے، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی، کہا: ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گزر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے، میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا: اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے، انہوں (ابوصالح) نے کہا: تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے اللہ کے کام میں آواز اور پکار ثابت ہوئی اور ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ اللہ کے کلام میں صوت اور حرف نہیں ہیں۔
1۔
اس روایت کا دوسراحصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے عداوت رکھتا ہے تو حضرت جبرئیل ؑ کو آواز دیتا ہے کہ میں فلاں شخص سے عداوت رکھتا ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ توجبرئیل ؑ اس سے دشمنی رکھتے ہیں۔
پھرحضرت جبرئیل ؑ تمام اہل آسمان میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے دشمنی رکھتاہے، لہذا تم بھی اس سے عداوت رکھو، چنانچہ تمام اہل آسمان اس سے عداوت رکھتے ہیں۔
پھر اس کے متعلق یہ نفرت وعداوت زمین میں بھی رکھ دی جاتی ہے۔
(عمدة القاری: 573/10)
2۔
ا س سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے متعلق لوگوں کے دلوں میں بغض ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی مبغوض ہوتاہے۔
3۔
اس حدیث میں اہل آسمان سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔
4۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے فرشتوں کا وجود ثابت کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق ہیں اوران کا مسکن آسمان میں ہے۔
أستغفراللہ ونعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔
روایت میں مقبولان خدا کے لیے عام محبت کا ذکر ہے مگر یہ محبت اللہ کے بندوں ہی کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔
ابو جہل اور ابو لہب جیسے بد بخت پھر بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
(1)
اہل زمین کے دلوں میں جو بندے کی محبت ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔
ابو جہل اور ابو لہب جیسے بدبخت انسان اس قسم کی محبت سے محروم رہتے ہیں۔
(2)
بہرحال لوگوں کے دلوں میں کسی شخص کی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے مقربین کی محبت کی علامت ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یقیناً جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اچھے کام کررہے ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے لیے(لوگوں کے دلوں میں)
محبت پیدا کردے گا۔
‘‘ (مریم19: 96)
ایک روایت میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ جب کسی سے بغض رکھتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بلا کرکہتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے بغض رکھتا ہوں تم بھی اس سے بغض رکھو، جبرئیل علیہ السلام بھی اس سے بغض رکھتے ہیں، پھر اہل آسمان میں آواز دیتا ہے تو آسمان والے بھی اس سے عداوت رکھتے ہیں،پھر اس کے بارے میں نفرت زمین والوں میں اتار دی جاتی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6705(2637) (3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: محبت کی تین قسمیں ہیں: ایک الٰہی، دوسری روحانی اور تیسری طبعی۔
اللہ تعالیٰ کا بندے سے محبت کرنا، محبت الٰہی، حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کا اس سے محبت کرنا روحانی اور اللہ کے بندوں کا اس سے محبت کرنا محبت طبعی ہے۔
(فتح الباري: 568/10)
یہ خالصاً موحدین سنت نبوی کے تابعدار کا ذکر ہے ان ہی کو دوسرے لفظوں میں اولیاء اللہ کہا جاتا ہے نہ کہ فساق فجار بدعتی لوگ وہ تو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کلام الٰہی کی حقیقت وماہیت کو ثابت کرنے کے بعد اب اس کی انواع واقسام کا ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے ہم کلام ہونا بھی ایک قسم ہے جسے اس عنوان میں بیان کیا گیا ہے چنانچہ اس حدیث میں ہے: ’’اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے کلام کرتا ہے کہ وہ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے۔
‘‘2۔
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کے کئی ایک اسباب ہیں: ان سے ایک توبہ واستغفار ہے، نیز ظاہری اور باطنی نجاستوں سے پاک رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی بندے سے محبت کا باعث ہے۔
اس کے علاوہ دشمنان اسلام کے سامنے سینہ سپر ہونا اور کثرت نوافل کا اہتمام کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا محبت کے اسباب ہیں۔
بہرحال اللہ تعالیٰ جب چاہے، جسے چاہے اور جس سے چاہے گفتگو کرتا ہے۔
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کا حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ندا دینا ثابت ہے۔
اور ندا باآواز بلند پکارنے کو کہا جاتا ہے۔
انھی الفاظ سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب اللہ کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو جبرائیل کو بلا کر کہتا ہے: میں نے فلاں کو اپنا حبیب بنا لیا ہے تم بھی اس سے محبت کرو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " پھر جبرائیل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں، اور پھر زمین والوں کے دلوں میں محبت پیدا ہو جاتی ہے، یہی ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات سيجعل لهم الرحمن ودا» " اس میں شک نہیں کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیدا کر دے گا " (مریم: ۹۶)، کا م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3161]
وضاحت:
1؎:
اس میں شک نہیں کہ جولوگ ایمان لاتے ہیں، اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ ان کے لیے (لوگوں کے دلوں میں) محبت پیداکردے گا (مریم: 96)