صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب فَضْلِ مَنْ يَمُوتُ لَهُ وَلَدٌ فَيَحْتَسِبُهُ: باب: جس شخص کا بچہ مرے اور وہ صبر کرے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنُونَ ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَلَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً ، قَالَ : دَفَنْتِ ثَلَاثَةً ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " . قَالَ عُمَرُ مِنْ بَيْنِهِمْ : عَنْ جَدِّهِ ، وقَالَ الْبَاقُونَ : عَنْ طَلْقٍ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْجَدَّ .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر آئی اور درخواست کی، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!آپ اس کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں، میں اپنے تین بچے دفن کر چکی ہوں، آپ نے فرمایا"کیا تونے تین بچے دفن کیے ہیں؟"اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا:" تونے آگ سے مضبوط باڑبنالی ہے۔"عمر بن حفص نے عن جدہ اپنے دادے سے کہا باقی راویوں نے صرف عن مطلق کہا،
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ أَبِي غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ يَشْتَكِي ، وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْهِ قَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً ، قَالَ : لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : عَنْ طَلْقٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكُنْيَةَ .قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں (سخت) خوف کا شکار ہوں، میں (اپنے) تین بچے دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے۔“ زہیر نے کہا: طلق سے روایت ہے اور کنیت (ابوغیاث) کا ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث میں لفظ قسم استعمال ہوا ہے جس سے مراد یمین یا حلف ہے۔
روایت میں قسم سے مراد اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ ’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر سے ہو کر نہ جائے۔
‘‘ (مریم: 71/19)
اس ارشاد باری تعالیٰ میں لفظ مقدر ہے۔
اصل عبارت یوں ہے: ’’اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر سے گزر کر نہ جائے۔
‘‘ (عمدة القاري: 706/15) (2)
کچھ حضرات کا خیال ہے کہ اس میں قسم مقدر (پوشیدہ)
نہیں بلکہ آیت سابقہ پر عطف ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’آپ کے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور ان کے ساتھ شیطانوں کو ضرور جمع کریں گے۔
‘‘ اس قسم پر عطف ڈالا گیا ہے۔
(فتح الباري: 661/11) (3)
واضح رہے کہ وارد ہونے سے مراد داخل ہونا نہیں بلکہ اوپر سے گزرنا ہے۔
واللہ أعلم
قدرتی طور پر اولاد کی موت ماں باپ کے لیے بہت بڑا غم ہے اور اسی لیے اگر کوئی اس پر یہ سمجھ کر صبر کرے کہ اللہ تعالی ہی نے یہ بچہ دیا تھا اور اب اسی نے اٹھا لیا تو اس حادثہ کی سنگینی کے مطابق اس پرثواب بھی اتنا ہی ملے گا۔
اس کے گنا ہ معاف ہو جائیں گے۔
اور آخرت میں اس کی جگہ جنت میں ہوگی۔
آخر میں یہ بتایا ہے کہ جہنم سے یوں تو ہر مسلمان کو گزرنا ہوگا، لیکن جو مومن بندے اس کے مستحق نہیں ہوں گے، ان کا گزرنا بس ایسا ہی ہوگا جیسے قسم پوری کی جارہی ہے۔
امام بخاری ؒ نے اس پر قرآن مجید کی آیت بھی لکھی ہے۔
بعض علماء نے اس کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ پل صراط چونکہ ہے ہی جہنم پر اور اس سے ہر انسان کو گزرنا ہوگا۔
اب جو نیک ہے وہ اس سے بآسانی گزر جائے گا، لیکن بدعمل یا کافر اس سے گزر نہ سکیں گے اورجہنم میں چلے جائیں گے تو جہنم سے گزر نے سے یہی مراد ہے۔
یہاں اس بات کا بھی لحاظ رہے کہ حدیث میں نابالغ اولاد کے مرنے پر اس اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے۔
بالغ کا ذکر نہیں ہے حالانکہ بالغ اور خصوصاً جوان اولاد کی موت کا سانحہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ماں باپ کی اللہ تعالی سے سفارش کرتے ہیں۔
بعض روایتوں میں ایک بچے کی موت پر بھی یہی وعدہ موجود ہے۔
جہاں تک صبر کا تعلق ہے وہ بہر حال بالغ کی موت پر بھی ملے گا۔
الغرض دوزخ کے اوپر سے گزرنے کا مطلب پل صراط کے اوپر سے گزرنا ہے جو دوزخ کے پشت پر نصب ہے۔
پس مومن کا دوزخ میں جانا یہی پل صراط کے اوپر سے گزرنا ہے۔
آیت شریفہ ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا﴾ کا یہی مفہوم ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں لفظ ’’فضیلت‘‘ کو اختیار کیا ہے تاکہ اس سلسلے میں مختلف احادیث میں تطبیق دی جائے، چنانچہ ایک حدیث میں نابالغ بچوں کے مرنے پر دخول جنت کی بشارت ہے، دوسری میں جہنم سے حجاب بننے کا ذکر ہے اور تیسری میں صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے دوزخ پر وارد ہونے کا بیان ہے۔
مذکورہ احادیث میں فضیلت ہی کا ثبوت ملتا ہے، کیونکہ دخول جنت تو دوزخ میں جانے اور پھر اس سے نکلنے کے بعد بھی ہو سکتا ہے، اس لیے دوسری حدیث سے پتہ چلا کہ دخول جنت، دوزخ میں داخل ہوئے بغیر ہو گا۔
تیسری حدیث کے مطابق جہنم پر ورود صرف قسم کو پورا کرنے کے لیے کارروائی کے طور پر ہو گا۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾) (مریم: 71/19)
’’تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا جہنم پر گزر نہ ہو۔
یہ ایک طے شدہ بات ہے جو تیرے رب کے ذمہ ہے۔
‘‘ جہنم کے اوپر سے گزرنے والے کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اس کی آہٹ تک نہ سنیں گے اور ایسے وہ لوگ ہوں گے جن کے لیے اللہ کی طرف سے پہلے ہی بھلائی مقدر ہو چکی ہے۔
(2)
والدین کے لیے یہ بہت بڑی بشارت ہے۔
اگرچہ احادیث میں یہ خوشخبری دو یا تین بچوں کے فوت ہونے پر ہے، لیکن امام بخاری ؒ کے عنوان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بشارت ایک بچے کے فوت ہونے پر بھی ہے، بلکہ ناتمام مولود پر بھی یہ فضیلت حاصل ہو گی، لیکن اس فضیلت کے حصول کے لیے شرط یہ ہے کہ اس قسم کے صدمے کی چوٹ لگتے ہی صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھے۔
جیسا کہ ایک حدیث میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’جب میں دنیا میں کسی بندے کی پسندیدہ چیز کو لے لیتا ہوں اور وہ اس پر صبر کرتا ہے اور مجھ سے اجر کی امید رکھتا ہے تو اسے ضرور جنت میں داخلہ ملے گا۔
‘‘(صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6424) (3)
احادیث میں صراحت ہے کہ مرنے والے بچے نابالغ ہوں، کیونکہ وہ معصوم ہوں گے جن کی سفارش قبول کی جائے گی۔
ورنہ صدمے کے اعتبار سے بڑی عمر کے بچوں کی وفات کا صدمہ زیادہ ہوتا ہے۔
والله أعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 1060]
وضاحت:
1؎:
تحلۃ القسم سے مراداللہ تعالیٰ کافرمان ﴿وإن منكم إلا واردها﴾ (تم میں سے ہرشخص اس جہنم میں واردہوگا) ہے اور وارد سے مراد پُل صراط پرسے گزرناہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا “، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ” ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے (ہم نہیں داخل ہو سکتے) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، (پھر) کہا جائے گا: (جاؤ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1877]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم ۱؎ پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1876]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1603]
فوائد و مسائل:
(1)
انسان کو اپنی اولاد سے فطری طور پر زیادہ محبت ہوتی ہے۔
اس لئے اولاد کی وفات پر صبر کرنے پر خصوصی ثواب ہے۔
(2)
الولد (اولاد)
میں بچے اور بچیاں دونوں شامل ہیں۔
خواہ بچے فوت ہوں یا بچیاں ثواب برابر ہے۔
(3)
یہ ثواب ماں اور باپ دونوں کےلئے ہے۔
(4)
قسم پوری کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ جہنم پر سے گزرے گا جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔
جیسے کہ ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا﴾ (مریم: 71)
تم میں سے ہر ایک اس پر ضرور وارد ہونے والا ہے۔
یہ تیرے رب کا قطعی فیصلہ ہے۔
نیک مومن آسانی سے پار ہوجایئں گے۔
گناہ گار مومن اور کافر جہنم میں گر جایئں گے۔
اس کے بعد مومنوں کو اپنے اپنے وقت پر جہنم سے نکال لیا جائے گا۔
اور کافر ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہ جایئں گے۔
«. . . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لاحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم.“»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی سوائے قسم پوری کرنے کے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 239]
[الموطأ رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 557، ك 16 ب 13 ح 38، التمهيد 346/6، الاستذكار: 511 ● و أخرجه البخاري 6656،، ومسلم 2632، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ مسلمان کو صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے دربار رحمت اور فضل و کرم سے بہت بڑا اجر ملتا ہے۔
➋ مسلمانوں کے (نابالغ) بچے جنت میں ہیں۔
➌ ایک صحابی کا بچہ فوت ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «أَمَا تَرْضَى أَلَّا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا جَاءَ يَسْعَى حَتَّى يَفْتَحَهُ لَكَ؟» کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم جنت کے جس دروازے کی طرف سے آؤ تو تمہارا بچہ بھاگتا ہوا آئے اور تمہارے لئے دروازہ کھول دے؟ [مسند على بن الجعد:1075 وسنده صحيح، مسند أحمد 436/3، 34،35/5، سنن النسائي 22/4 ح 1871، 118/4 ح 2090]
● معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے والدین کا فوت شدہ بچہ قیامت کے دن ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے گا۔
➍ ”سوائے قسم پوری کرنے کے“ میں قران مجید کی آیت «وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا» اور تم میں سے ہر آدمی اس پر وارد ہو گا۔ [سورة مريم: 71] کی طرف اشارہ ہے۔ [فتح الباري 661/11 ح 6656، طبع دارالسلام]
◄ مزید تفصیل کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر و کتب تفاسیر کی طرف رجوع کریں۔
«تحلة القسم» سے مراد پل صراط سے گزرنا ہے۔