مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : " إِنَّهُ قَدْ مَاتَ لِيَ ابْنَانِ ، فَمَا أَنْتَ مُحَدِّثِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : قَالَ : نَعَمْ ، صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَتَلَقَّى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ ، أَوَ قَالَ : أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِثَوْبِهِ ، أَوَ قَالَ : بِيَدِهِ كَمَا آخُذُ أَنَا بِصَنِفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يَتَنَاهَى ، أَوَ قَالَ : فَلَا يَنْتَهِي حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ " . وَفِي رِوَايَةِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ،

ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں معتمر (بن سلیمان تیمی) نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے ابوسیلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ (ابوحسان نے) کہا: (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں (وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں) ان میں سے کوئی اپنے باپ۔ یا فرمایا: اپنے ماں باپ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا۔ یا کہا: اس کے ہاتھ سے۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا۔ یا کہا: نہیں رکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ اور سوید کی روایت میں (ابوسیلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں) ہے: ہمیں ابوسیلیل نے حدیث سنائی۔

وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا تُطَيِّبُ بِهِ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا ؟ قَالَ : نَعَمْ .

یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ہاں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2635
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابو حسان رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا واقعہ یہ ہے کہ میرے دو بچے مر گئے ہیں تو آپ کیا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حدیث نہیں سنائیں گے، جس سے ہمارے دلوں کو ہمارے مرنے والوں کے بارے میں تسلی ہو؟ انھوں نے کہا، ہاں، آپ نے فرمایا:"چھوٹے بچے جنت کے کورے(پانی کے کیڑے) ہیں ان میں سے کوئی اپنے باپ کویا فرمایا:"والدین کو ملے گا تو اس کا کپڑا پکڑ لے گا یا فرمایا:اس کا ہاتھ پکڑلے گا جس طرح... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6701]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
دعاميص، دعموص کی جمع ہے، پانی کے ان کیڑوں کو کہتے ہیں، جو اس سے الگ نہیں ہوتے، یعنی یہ چھوٹے بچے جنت سے الگ نہیں ہوں گے۔
صنفة: (کپڑے کا)
کنارہ، فلا يتناهي یافلا ينتهي، رکے گا نہیں، باز نہیں آئے گا، یعنی اپنے والد کے دامن یا ہاتھ کو چھوڑے گا نہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2635 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔