مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2632
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں۔"آپ نے فرمایا:"جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوں گے، اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِكٍ ، وَبِمَعْنَى حَدِيثِهِ ، إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ : فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ .

سفیان اور معمر دونوں نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کے مفہوم میں حدیث بیان کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے: ”تو وہ صرف قسم پوری کرنے کے لیے آگ میں داخل ہو گا۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ : " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَوِ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَوِ اثْنَيْنِ .

سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا: ”تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان (پر صبر کرتے ہوئے ان) کا ثواب اللہ سے طلب کرے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گی۔“ ان میں سے ایک عورت نے کہا: یا دو (بچے فوت ہو جائیں؟) اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ”یا دو بچے (فوت ہو جائیں۔)“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2632
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں۔"آپ نے فرمایا:"جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوں گے، اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6696]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: الا تحلة للقسم: سے مراد اللہ کا فرمان، (وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا ﴿٧١﴾) (سورۃ مریم، آیت نمبر 71)
تم میں سے ہر ایک کو اس سے گزرنا ہے، یہ اللہ کا طے شدہ وعدہ ہے، اور اس پر سے گزرنے والوں کی مختلف اقسام ہیں، جن کے لیے حسنیٰ طے ہے، وہ آگ کی آواز بھی نہیں سنیں گے۔
(سورۃ الانبیاء آیت نمبر 102)
اس طرح جس کے تین بچے فوت ہوئے اور اس نے اللہ کی رضا اور حصول ثواب کی خاطر صبر کیا، وہ بڑی تیزی سے آگ کے اوپر سے گزر جائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2632 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔