صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب فَضْلِ الإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ: باب: بیٹیوں کے پالنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ " .حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جس نے دو بچیوں کے بالغ ہونے تک خرچہ برداشت کیا، ان کی پرورش کی، قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے،"اور آپ نے اپنی انگلیوں کو ملا لیا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6695]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ مقام و مرتبہ اس کو حاصل ہو گا، جس نے دو بچیوں کا نان و نفقہ اور دیگر اخراجات برداشت کیے، لیکن پہلی حدیث اور دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بچی کی پرورش بھی اجروثواب اور فضیلت کا کام ہے اور ظاہر ہے زیادہ بچیوں کی فکر و اہتمام اجروثواب اور درجات و مراتب میں رفعت کا باعث بنے گا، کیونکہ اجروثواب کے اضافہ میں محنت و مشقت میں اضافہ کو دخل ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2631 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1914 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے “، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1914]
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے “، اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں (شہادت اور درمیانی) سے اشارہ کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1914]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(مسلم کی سند میں ’’عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، عن أنس بن مالك‘‘ ہے)
نوٹ:
(مسلم کی سند میں ’’عن عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، عن أنس بن مالك‘‘ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1914 سے ماخوذ ہے۔