صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب الْوَصِيَّةِ بِالْجَارِ وَالإِحْسَانِ إِلَيْهِ: باب: ہمسائے کا حق اور اس کے ساتھ حسن سلوک۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .عمر بن محمد کے والد نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ اسے وارث (بھی) بنا دیں گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : " إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ " .عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی نے کہا: ہمیں ابوعمران جونی نے عبداللہ بن صامت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ " .شعبہ نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی: ”جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو، پھر اپنے ہمسایوں میں سے کسی (ضرورت مند) گھرانے کو دیکھو اور اس میں سے کچھ اچھے طریقے سے ان کو بھجوا دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1942]
وضاحت: 1؎: اس سے معلوم ہواکہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
(1)
اسلام میں پڑوس کی بہت اہمیت ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، عبادت گزار ہو یا فاسق و فاجر، دوست ہو یا دشمن، اپنا ہویا بیگانہ، قریبی ہو یا اجنبی، خیرخواہ ہو یا بدخواہ ہر قسم کے پڑوسی کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا حکم ہے۔
(2)
پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو مشرک ہو۔
اس کا صرف ایک حق ہے۔
دوسرا وہ جو مسلمان ہو۔
اس کے دو حق ہیں: ایک پڑوسی ہونے کا دوسرا مسلمان ہونے کا، تیسرا وہ جو رشتے دار بھی ہو۔
اس کے تین حق ہیں: ایک پڑوس کا، دوسرا اسلام کا اور تیسرا رشتے داری کا۔
دور جاہلیت میں بھی لوگ ہمسائیگی کے حق ادا کرتے تھے، اسلام نے بھی اسے برقرار رکھا ہے۔
(3)
مذکورہ احادیث سے بھی ہمسائے کی حیثیت کا پتا چلتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب گھر میں بکری ذبح کرتے تو اپنے ایک یہودی پڑوسی کے گھر اس کا گوشت ضرور بھیجتے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5152)
ان احادیث کا سبب ورود یہ ہے کہ ایک انصاری صحابی اپنے گھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے نکلے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص سے محو گفتگو پایا۔
وہ بیٹھ کر انتظار کرتے رہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تادیر کھڑے دیکھ کر اسے آپ پر ترس آنے لگا....۔
آخر کار جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تجھے علم ہے کہ یہ کون تھے؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’یہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کررہے تھے، یہاں تک کہ مجھے شک گزرا کہ وہ میرا وارث بن جائے گا۔
‘‘ (مسند أحمد: 32/5)
اگرچہ پڑوسی مالی ترکے میں وارچ نہیں ہوتا، تاہم وہ علمی جائیداد میں وراثت کا حق دار ہے۔
واللہ أعلم