حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .

عمر بن محمد کے والد نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتیٰ کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ اسے وارث (بھی) بنا دیں گے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ : " إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ " .

عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی نے کہا: ہمیں ابوعمران جونی نے عبداللہ بن صامت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " إِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ " .

شعبہ نے ابوعمران جونی سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی: ”جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو، پھر اپنے ہمسایوں میں سے کسی (ضرورت مند) گھرانے کو دیکھو اور اس میں سے کچھ اچھے طریقے سے ان کو بھجوا دو۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2625
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6014 | صحيح البخاري: 6015 | سنن ترمذي: 1942 | سنن ابي داود: 5151 | سنن ابن ماجه: 3673

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6014 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6014. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: "حضرت جبرئیل ؑ بار بار مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے تاآنکہ مجھے خیال گزرا کہ شاید وہ اسے وراثت میں شریک کردیں گے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6014]
حدیث حاشیہ: پڑوسی کا بہت ہی بڑا حق ہے مگر بہت کم لوگ اس مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6014 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1942 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´پڑوسی کے حقوق کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت (تاکید) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں (بھی) شریک ٹھہرا دیں گے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1942]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: اس سے معلوم ہواکہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1942 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6015 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6015. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "حضرت جبرئیل ؑ ہمیشہ مجھے ہمسائے کے متعلق وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کر لیا وہ ہمسائے کو وارث بنادیں گے۔"[صحيح بخاري، حديث نمبر:6015]
حدیث حاشیہ:
(1)
اسلام میں پڑوس کی بہت اہمیت ہے، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، عبادت گزار ہو یا فاسق و فاجر، دوست ہو یا دشمن، اپنا ہویا بیگانہ، قریبی ہو یا اجنبی، خیرخواہ ہو یا بدخواہ ہر قسم کے پڑوسی کے ساتھ خیر خواہی کرنے کا حکم ہے۔
(2)
پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو مشرک ہو۔
اس کا صرف ایک حق ہے۔
دوسرا وہ جو مسلمان ہو۔
اس کے دو حق ہیں: ایک پڑوسی ہونے کا دوسرا مسلمان ہونے کا، تیسرا وہ جو رشتے دار بھی ہو۔
اس کے تین حق ہیں: ایک پڑوس کا، دوسرا اسلام کا اور تیسرا رشتے داری کا۔
دور جاہلیت میں بھی لوگ ہمسائیگی کے حق ادا کرتے تھے، اسلام نے بھی اسے برقرار رکھا ہے۔
(3)
مذکورہ احادیث سے بھی ہمسائے کی حیثیت کا پتا چلتا ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب گھر میں بکری ذبح کرتے تو اپنے ایک یہودی پڑوسی کے گھر اس کا گوشت ضرور بھیجتے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5152)
ان احادیث کا سبب ورود یہ ہے کہ ایک انصاری صحابی اپنے گھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لیے نکلے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص سے محو گفتگو پایا۔
وہ بیٹھ کر انتظار کرتے رہے، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تادیر کھڑے دیکھ کر اسے آپ پر ترس آنے لگا....۔
آخر کار جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تجھے علم ہے کہ یہ کون تھے؟‘‘ میں نے کہا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’یہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو مجھے پڑوسی کے متعلق وصیت کررہے تھے، یہاں تک کہ مجھے شک گزرا کہ وہ میرا وارث بن جائے گا۔
‘‘ (مسند أحمد: 32/5)
اگرچہ پڑوسی مالی ترکے میں وارچ نہیں ہوتا، تاہم وہ علمی جائیداد میں وراثت کا حق دار ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6015 سے ماخوذ ہے۔