صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب النَّهْيِ عَنْ قَوْلِ هَلَكَ النَّاسُ: باب: یہ کہنا منع ہے کہ لوگ تباہ ہوئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ : هَلَكَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : لَا أَدْرِي أَهْلَكَهُمْ بِالنَّصْبِ أَوْ أَهْلَكُهُمْ بِالرَّفْعِ .حماد بن ابی سلمہ اور امام مالک نے سہیل بن ابی صالح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ایک شخص (یہ) کہتا ہے: لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ انہیں ہلاک کر دیتا ہے۔“ (امام مسلم کے ایک شاگرد) ابواسحاق نے کہا: مجھے (یعنی طور پر) معلوم نہیں کہ (کاف کے) زبر کے ساتھ اہلکہم (اس نے انہیں ہلاک کر دیا ہے) یا پیش کے ساتھ اہلکہم (ان سب سے بڑھ کر ہلاک کرنے والا ہے)۔
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ جَمِيعًا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم سنو! (اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے) کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۱؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4983]
بلاشبہ کوئی بندہ اپنے طور پر کتنا ہی صالح کیوں نہ ہو لیکن اگر شیطانی بھرے میں آکر عجب وتکبر کے پھندے میں پھنس گیا تو وہی سب سے زیادہ ہلاکت میں پڑنے والاہے، جیسے گزشتہ حدیث4901 میں گزرا ہے، لہذا بڑے اور برے بول بولنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔