صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ الإِنْسَانِ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى: باب: اللہ کی رحمت سے کسی کو ناامید کرنا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ : " أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ، قَالَ : مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ ، فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ " أَوْ كَمَا قَالَ .حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا،"ایک آدمی نے کہا:اللہ کی قسم!اللہ فلاں کو معاف نہیں فرمائے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"میرے بارے میں یہ قسم اٹھانے والا کون ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا،میں نے فلاں کو بخش دیا اور تیرے (قسم اٹھانے والے کے)عمل ضائع کردئیے۔"یا جو آپ نے فرمایا:"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا،"ایک آدمی نے کہا:اللہ کی قسم!اللہ فلاں کو معاف نہیں فرمائے گا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:"میرے بارے میں یہ قسم اٹھانے والا کون ہے کہ میں فلاں کو معاف نہیں کروں گا،میں نے فلاں کو بخش دیا اور تیرے (قسم اٹھانے والے کے)عمل ضائع کردئیے۔"یا جو آپ نے فرمایا:" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6681]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کسی گناہ گار اور خطا کار مسلمان کے بارے میں یہ قسم اٹھانا کہ اللہ اس کو معاف نہیں کرے گا، یہ دعویٰ کرنا ہے کہ مجھے غیب کا علم ہے یا اللہ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ یہ ہے جو میں کہوں گا، اللہ تعالیٰ اسی طرح کرے گا، یا اس طرح دوسرے کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا ہے اور یہ تمام باتیں غلط ہیں اور بعض گناہوں کی نحوست اس قدر زیادہ ہے کہ وہ نیکیوں کے ضیاع کا باعث بنتے ہیں، اگرچہ انسان ان سے کافر نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2621 سے ماخوذ ہے۔