صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب فَضْلِ إِزَالَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ: باب: راہ میں سے موذی چیز ہٹانے کا ثواب۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَازِعِ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ ، قَالَ : " اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ " .حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں، جس سے فائدہ اٹھا سکوں،آپ نے فرمایا:"مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دو۔"
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّ أَبَا بَرْزَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَسَى أَنْ تَمْضِيَ وَأَبْقَى بَعْدَكَ ، فَزَوِّدْنِي شَيْئًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْعَلْ كَذَا ، افْعَلْ كَذَا ، أَبُو بَكْرٍ نَسِيَهُ ، " وَأَمِرَّ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ " .حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرض کیا، مجھےمعلوم نہیں شاید آپ دنیا سے رخصت ہو جائیں اور میں آپ کے بعد زندہ رہوں تو مجھے کوئی ایسا توشہ عنایت فرمائیں جس سے اللہ مجھے نفع پہنچائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ کام کرو، یہ کام کرو، ابو بکر کام کا نام بھول گئےاور راستہ سے تکلیف دہ چیز دور کردو۔"(اور آج مسلمان تکلیف دہ اشیاء راستوں پر پھینکتے ہیں)
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3681]
فوائد ومسائل: (1)
دنیا کے کسی جائز کام میں فائدہ پہنچانے والے مسلمان کو آخرت میں فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
02)
اللہ کی رضا کے لیے رفاہ عامہ کا کوئی کام کرنا عظیم نیکی ہے۔