حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُكُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ " .

ہمام بن منبہ کو بیان کردہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ سے اشارہ نہ کرے۔کیونکہ تم سے کسی کو پتہ نہیں ہے شاید شیطان چھین کر اس کے ہاتھ سے چلو دے اس طرح وہ آگ کے گڑھے میں جاگرے۔"یعنی دوسرے بھائی کو نقصان نہ پہنچ جائے، جو آگ کی سزا کا باعث بن جائے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2617
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7072 | صحيفه همام بن منبه: 100

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7072 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7072. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ (اس کے انجام کو) نہیں جانتا ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے وار کرا دے پھر وہ (اس وجہ سے) دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7072]
حدیث حاشیہ: اس طرح کہ دنیا سے دین کے عالم گزر جائیں گے اور جو لوگ باقی رہیں گے وہ ہمہ تن دنیا کے کمانے میں غرق ہوں گے‘ ان کو دینی علوم کا بالکل شوق ہی نہیں رہے گا۔
ہمارے زمانہ میں یہ آثار شروع ہو گئے ہیں۔
ہزار ہا لکھو کھ ہا مسلمان اپنے بچوں کو صرف انگریزی تعلیم دلاتے ہیں‘ قرآن وحدیث سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں إلا ما شا ءاللہ۔
کچھ کچھ جو دین کے عالم رہ گئے ہیں‘ قیامت کے قریب یہ بھی نہ رہیں گے۔
علم دین کو محض بے کار سمجھ کر اس کی تحصیل چھوڑ دیں گے‘ کیونکہ اچھے لوگ قیامت سے پہلے اٹھ جائیں گے۔
جیسے امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو حریر سے زیادہ ملائم ہوگی اس کے لگتے ہی جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا وہ اٹھ جائے گا۔
دوسری حدیث میں ہے قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جائے گا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ قیامت اچھے لوگوں پر بھی قائم ہوگی کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک سے مراد ہے کہ اس ہوا چلنے تک جس کے لگتے ہی ہر ایک مومن مر جائے گا اور کفارہ ہی دنیا میں رہ جائیں گے انہی پر قیامت آئے گی قسطلانی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7072 سے ماخوذ ہے۔