حدیث نمبر: 2616
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَشَارَ إِلَى أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّى يَدَعَهُ ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"جس نے اپنے بھائی کی طرف تیز دھار آلہ سے اشارہ کیا(اس کو ڈرانے یا خوف زدہ کرنے کے لیے) تو فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے۔ حتی کہ اس کو چھوڑدے اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِهِ .

امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سےبیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2616
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2162

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"جس نے اپنے بھائی کی طرف تیز دھار آلہ سے اشارہ کیا(اس کو ڈرانے یا خوف زدہ کرنے کے لیے) تو فرشتے اس پر لعنت بھیجیں گے۔ حتی کہ اس کو چھوڑدے اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6666]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، اپنے کسی بھائی کو خوف زدہ کرنے کے لیے یا محض خوش طبعی میں پریشان کے لیے اس کی طرف کسی ہتھیار کا رخ کرنا، فرشتوں کی لعنت کا باعث ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے، کسی مسلمان بھائی کو تنگ کرنا، اس کو پریشان کرنا، مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے، کیونکہ بعض دفعہ ہتھیار غیر شعوری طور پر نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے اس کا سدباب کرتے ہوئے شریعت نے اس سے محض اشارہ کرنا بھی جرم قرار دیا اور آج مسلمان اشارے کی بجائے ہتھیاروں سے دوسرے مسلمانوں کو ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2616 سے ماخوذ ہے۔