حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسٍ ، أَوْ سُوقٍ وَبِيَدِهِ نَبْلٌ ، فَلْيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا ، ثُمَّ لِيَأْخُذْ بِنِصَالِهَا " ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى : وَاللَّهِ مَا مُتْنَا حَتَّى سَدَّدْنَاهَا بَعْضُنَا فِي وُجُوهِ بَعْضٍ .

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں تیر لے کر مجلس میں بازار سے گزرے تو وہ اس کا پیکان پکڑلے، پھر اس کے پیکان پکڑلے، پھر اس کے پیکان کو پکڑلے،یعنی خوب اچھی طرح پکڑلے،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے مرنے سے پہلے ایک دوسرے کے چہرے (رخ) کی طرف سیدھے کر لیے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا ، أَوْ فِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ ، فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ ، أَوَ قَالَ : لِيَقْبِضَ عَلَى نِصَالِهَا " .

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی ہماری مساجد ہمارے بازاروں سے تیر لے گزرے تو وہ اپنی ہتھیلی سے اس کے پیکان (نوک)کو پکڑلے تاکہ اس سے کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچے۔"یا آپ نے فرمایا:"اس کے پیکان پر قبضہ کر لے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2615
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی اپنے ہاتھ میں تیر لے کر مجلس میں بازار سے گزرے تو وہ اس کا پیکان پکڑلے، پھر اس کے پیکان پکڑلے، پھر اس کے پیکان کو پکڑلے،یعنی خوب اچھی طرح پکڑلے،حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ہم نے مرنے سے پہلے ایک دوسرے کے چہرے (رخ) کی طرف سیدھے کر لیے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6664]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین اور تاکید یہ تھی کہ جس جگہ لوگوں کا اجتماع ہو، وہاں ہتھیار یا کوئی خطرناک چیز اس انداز سے نہ لے جائے کہ دوسروں کو اس سے تکلیف پہنچے، لیکن آپ کے فرمان کے برعکس بعد میں لوگ ہتھیار لے کر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے اور آج بدقسمتی سے لوگوں کو بموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دہشت گردی کو عام کر دیا گیا ہے، حتی کہ اللہ کے گھر مساجد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں، اعاذنا الله منها۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2615 سے ماخوذ ہے۔