مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2612
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .

مغیرہ حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“

حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ .

ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: ”جب تم میں سے کوئی (دوسرے کو) مارے۔“

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَّقِ الْوَجْهَ " .

سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے بچے۔“

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلَا يَلْطِمَنَّ الْوَجْهَ " .

شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوایوب سے سنا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے۔“

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .

نصر بن علی جہضمی نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں مثنیٰ (بن سعید) نے حدیث بیان کی، نیز مجھے محمد بن حاتم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے آدم کو اس کی صورت پر بنایا ہے۔“

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الْمَرَاغِيِّ وَهُوَ أَبُو أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .

ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے ابوایوب یحییٰ بن مالک مراغی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2612
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے (پر مارنے)سے اجتناب کرے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6651]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کا مظہر اس کا چہرہ ہے، جو ایک انتہائی نازک اور لطیف عضو ہے اور مار کو برداشت نہیں کر سکتا، مار سے انسان کا چہرہ بگڑ سکتا ہے، جس سے اس کا حسن و جمال متاثر ہو گا، کیونکہ چہرے کی مار پیٹ سے انسان کی آنکھ کی بینائی زائل ہو سکتی ہے، آنکھ متاثر ہو سکتی ہے، اس کی دوسری وجہ آگے آ رہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2612 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔