حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لقتيبة ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ ، وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ ؟ قَالَ : قُلْنَا : الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ ، قَالَ : لَيْسَ بِذَلِكَ ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:"تم اپنے اندر "رَقُوب"(بے اولاد)کس کو سمجھتے ہو؟"ہم نے کہا، جس کی اولاد نہ ہو، آپ نے فرمایا:"وہ"رَقُوب"نہیں ہے لیکن وہ شخص "رَقُوب"ہے جس نے اپنے آگے کسی بچہ کو نہ بھیجا ہو، (قیامت کے دن اس کو آگے لینے کے لیے آئے) آپ نے پوچھا،"تم اپنے اندر شہ زور (گرانے والا)کس کو سمجھتے ہو؟"ہم نے عرض کیا، جس کوکوئی پچھاڑنہ سکے آپ نے فرمایا:"وہ طاقتور نہیں ہے بلکہ طاقت ور پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ .

امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے اس کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب البر والصلة والآداب / حدیث: 2608
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:"تم اپنے اندر "رَقُوب"(بے اولاد)کس کو سمجھتے ہو؟"ہم نے کہا، جس کی اولاد نہ ہو، آپ نے فرمایا:"وہ"رَقُوب"نہیں ہے لیکن وہ شخص "رَقُوب"ہے جس نے اپنے آگے کسی بچہ کو نہ بھیجا ہو، (قیامت کے دن اس کو آگے لینے کے لیے آئے) آپ نے پوچھا،"تم اپنے اندر شہ زور (گرانے والا)کس کو سمجھتے ہو؟"ہم نے عرض کیا، جس کوکوئی پچھاڑنہ سکے آپ نے فرمایا:"وہ طاقتور نہیں ہے بلکہ طاقت ور پہلوان وہ ہے جو غصہ کے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6641]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
رقوب: جس کی اولاد نہ بچے، صرعة: شہ زور، پہلوان، جو مدمقابل کو پچھاڑ دے اور کوئی اس کو پچھاڑ نہ سکے۔
فوائد ومسائل: عام طور پر لوگ اسی کو لاولد خیال کرتے ہیں، جس کی اولاد زندگہ نہ رہے، جبکہ شرعا وہ لاولد ہے، جس کی زندگی میں، اس کی اولاد فوت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی موت پر اللہ تعالیٰ سے اجروثواب حاصل کرنے کے لیے صبر کرے اور قیامت کے دن وہ اس کے لیے پیش رو اور پیشوا بن سکے، اسی طرح زورآور، پہلوان اس کو خیال کیا جاتا ہے، جو مدمقابل کو پچھاڑ دے، جبکہ شرعی نقطہ نظر سے شہ زور اور پہلوان وہ ہے، جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے، کیونکہ سب سے بڑا اور بہت ہی مشکل کام، اپنے نفس کو زیر کرنا اور اس پر قابو پانا ہے، اس لیے نفس کو سخت ترین دشمن قرار دیا جاتا ہے اور خاص کر غصہ کی صورت میں تو اس پر قابو نہایت کٹھن اور مشکل کام ہے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ طاقتور اور پہلوان کہلانے کا اصل اور صحیح حقدار، وہ اللہ کا بندہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے او نفسانیت اس سے کوئی بیجا حرکت اور غلط کام نہ کروا سکے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کمال اور خوبی یہ نہیں ہے اور نہ بندہ سے یہ مطالبہ ہے کہ اس کو غصہ آئے ہی نہیں، کیونکہ کسی کی سخت ناگوار حرکت پر غصہ آنا ایک طبعی اور فطرتی جذبہ ہے، جس کو ختم نہیں کیا جا سکتا، مطلوب یہ ہے کہ غصہ کی کیفیت کے وقت نفس پر پورا قابو رہے، ایسا نہ ہو کہ غصہ سے مغلوب ہو کر انسان خلاف شریعت اور شان بندگی کے منافی حرکات کا مرتکب ہو جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6641 سے ماخوذ ہے۔