صحيح مسلم
كتاب البر والصلة والآداب— حسن سلوک، صلہ رحمی اور ادب
باب مَنْ لَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَبَّهُ أَوْ دَعَا عَلَيْهِ وَلَيْسَ هُوَ أَهْلاً لِذَلِكَ كَانَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا وَرَحْمَةً: باب: جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور وہ لعنت کے لائق نہ تھا تو اس پر رحمت ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ ، قَالَ : فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً ، وَقَالَ : اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، قَالَ ، ثُمَّ قَالَ لِيَ : اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : فَجِئْتُ ، فَقُلْتُ : هُوَ يَأْكُلُ ، فَقَالَ : لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : قُلْتُ لِأُمَيَّةَ : مَا حَطَأَنِي ؟ قَالَ : قَفَدَنِي قَفْدَةً " .محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا، کہا: آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی (مقصود پیار کا اظہار تھا) اور فرمایا: ”جاؤ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے آپ سے آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا: ”جاؤ، معاویہ کو بلا لاؤ۔“ میں نے پھر آ کر کہا: وہ کھانا کھا رہے ہیں، تو آپ نے فرمایا: ”اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے۔“
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوحمزہ نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ سے چھپ گیا۔ آگے اسی (سابقہ حدیث) کی طرح بیان کیا۔